سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 218 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 218

۲۱۸ بلکہ حق یہ ہے کہ جس طرح ہر شخص کے روحانی مقام کے لحاظ سے اس کے روحانی قومی تیز اور لطیف ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کے مقابل پر اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کے لیے اُن کے مقام قرب کے لحاظ سے روحانی بلندیوں کے دروازے کھولتا ہے۔اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ روحانی مناظر آپ کے ارفع و اعلیٰ مقام کے لحاظ سے دوسروں کے لطیف ترین کشوف سے بھی آگے نکلے ہوئے تھے جن میں آپ کو ایک سراسر نورانی جسم کے ساتھ ان بلند ترین روحانی چوٹیوں کی سیر کرائی گئی جہاں آج تک کسی بشر کا قدم نہیں پہنچا تھا اور ظاہر ہے کہ اس کے مقابل پر محض ایک خواب کو کچھ بھی حیثیت حاصل نہیں اور نہ ہی اس کے سامنے محض ایک ظاہری اور جسمانی پرواز کو جو ایک عجوبہ نمائی سے بڑھ کر نہیں کوئی حقیقت حاصل ہے۔ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کسی بشر کو اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر لے جانے کی قدرت نہیں رکھتا بلکہ غرض صرف یہ ہے کہ قرآن شریف اور صحیح احادیث اور مستند تاریخی روایات سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اسراء یا معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس جسم عنصری کے ساتھ اٹھائے گئے ہوں بلکہ اس کے برعکس جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک نہایت لطیف اور پاکیزہ قسم کی روحانی پرواز تھی جو بطریق رویا آپ کو کرائی گئی اور تصویری اور تعبیری زبان میں اس پرواز کے اندر بہت سے حقائق اور اشارات مخفی تھے جو ایک عظیم الشان نشان کے طور پر اپنے وقت پر پورے ہوئے اور ہور ہے ہیں۔دوسری طرف اس جگہ اس بات کے بیان کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ گو خدائی قدرت کے لحاظ سے سبھی کچھ ممکن ہے مگر خدا تعالیٰ نے بعض امور کو خود اپنی سنت کے خلاف قرار دیدیا ہے اور انہی میں کسی بشر کا اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ یہ ذکر آتا ہے کہ جب ایک موقع پر کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ ہمیں آسمان پر چڑھ کر دکھلاویں تو آپ نے انہیں خدائی منشا کے ماتحت یہ جواب دیا کہ سُبْحَانَ اللہ ! میں تو صرف ایک انسان رسول ہوں اور ایک انسان رسول کا اس طرح آسمان پر جانا خدائی سنت کے خلاف ہے اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہ واقعہ قرآن شریف نے اسی سورۃ میں بیان فرمایا ہے جس میں اسراء کا ذکر آتا ہے۔اسی طرح بعض دوسری آیات میں بھی یہ صاف مذکور ہے کہ ایک انسان اس دنیوی زندگی میں عالم مادی کی حدود سے باہر نہیں نکل سکتا۔لے : دیکھوسورۃ بنی اسرائیل : ۹۴ : : انعام : ۳۶ و المرسلات : ۲۷،۲۶