سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 213 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 213

۲۱۳ قریب قریب واقع ہوئی ہوں اور خواہ ان کا آپس میں روحانی رنگ میں کوئی جوڑ اور رابطہ بھی ہو مگر حقیقہ وہ ایک دوسرے سے جدا اور مختلف ہیں یعنی معراج تو اس روحانی سفر کا نام ہے جس میں آپ کو مکہ سے اُٹھا کر آسمان تک پہنچایا گیا جہاں بالآخر آپ خداوند عالمیان کے دربار میں پیش ہوئے اور اسراء ایک دوسرا سفر ہے جو آپ کو بعض مصالح کے ماتحت مکہ سے لے کر بیت المقدس تک کرایا گیا۔قرآن شریف نے ان ہر دوسفروں کو علیحدہ علیحدہ سورتوں میں علیحدہ علیحدہ کیفیات اور تفاصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ؛ چنانچہ سورۃ نجم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جس روحانی پرواز کا ذکر آتا ہے وہ معراج ہے۔جیسا کہ بخاری میں بھی سورۃ نجم کی آیات کو معراج کے واقعہ پر چسپاں کر کے اشارہ کیا گیا ہے اور سورۃ بنی اسرائیل میں سے جس سفر کا ذکر ہے وہ اسراء ہے اور ان دونوں کی تفصیلات اور کیفیات ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں۔مثلاً سورۃ بنی اسرائیل میں اسراء کا واقعہ بیان کرتے ہوئے قرآن شریف نے آسمان کا ذکر تک نہیں کیا اور سورۃ نجم کے بیان میں بیت المقدس کا کوئی ذکر نہیں آتا۔اسی طرح احادیث کے بغور مطالعہ سے بھی معراج اور اسراء کا جدا جدا ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ بخاری میں جو قرآن شریف کے بعد اسلامی لٹریچر میں صحیح ترین کتاب مانی جاتی ہے۔اسراء اور معراج کے علیحدہ علیحدہ باب باندھ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ دو مختلف چیزیں ہیں۔اور دونوں سفروں کی جدا جدا ابتداء بیان کرنے میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ ہر دوسفر ایک دوسرے سے جدا تھے۔یعنی جہاں اسراء کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے لے کر بیت المقدس تک کی سیر کرائی گئی وہاں معراج کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپ کو مکہ سے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔گویا ہر دوسفروں کی ابتداء علیحدہ علیحدہ طور پر مکہ سے ہی ہوئی جس سے ان کا ایک دوسرے سے جدا اور متغائر ہونا ظاہر وعیاں ہے۔علاوہ ازیں باوجود اس کے کہ معراج کی حدیث بخاری میں چھ مختلف جگہوں میں بیان ہوئی ہے اور اسی طرح اسراء کی حدیث بھی متعدد جگہ آئی ہے اور بعض جگہ راویوں کی بے احتیاطی سے جزوی طور پر اسراء اور معراج کے بیان میں کسی قدر خلط بھی ہو گیا ہے لیکن کہیں بھی معراج کے بیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت المقدس کی طرف جانا مذکور نہیں ہوا بلکہ ل : النجم : ۸ تا ۱۰ ے : بنی اسرائیل : ۲ : دیکھو بخاری ابواب الاسراء والمعراج : بخاری کتاب التوحید باب قَوْلِهِ وَ كَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيماً : دیکھو بخاری ابواب الاسراء والمعراج