سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 207
۲۰۷ * اس سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو نخلہ میں رات کے وقت جب کہ آپ قرآن شریف کی تلاوت میں مصروف تھے جنات کا ایک گروہ جو سات نفوس پر مشتمل تھا اور شام کے ایک شہر نصیبین سے آیا تھا آپ کے پاس سے گذرا اور اُس نے آپ کی تلاوت کو سنا اور اس سے متاثر ہوا اور جب یہ جن اپنی قوم کی طرف واپس گئے تو اُنہوں نے اپنی قوم سے آپ کی بعثت اور قرآن شریف کا ذکر کیا۔قرآن شریف میں اس واقعہ کا دو جگہ ذکر آتا ہے اور دونوں جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جنوں کے آنے کا خود براہ راست علم نہیں ہوا بلکہ ان کے چلے جانے کے بعد خدائی وحی کے ذریعہ اس بات کی اطلاع دی گئی کہ ایک جنوں کا گروہ آپ کی تلاوت کوسن گیا ہے۔حدیث میں بھی متفرق جگہ اس واقعہ کا ذکر آتا ہے اور گوتاریخی بیان سے حدیث کا بیان بعض تفصیلات میں مختلف ہے مگر مال ایک ہی ہے کہ جنات کے ایک وفد نے ایک سفر کی حالت میں آپ کی تلاوت قرآن کریم کو سنا اور پھر اس سے متأثر ہو کر اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ گیا۔یہ ممکن ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زیادہ دفعہ ہوا ہو جس کی وجہ سے روایات میں باہمی اختلاف ہو گیا ہے لیکن اس جگہ ہمیں اس واقعہ کی ظاہری تفصیلات سے زیادہ سروکار نہیں ہے بلکہ مختصر طور پر صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اس جگہ جنات سے کیا مراد ہے اور ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلنا اور پھر کلام جید کی تلاوت سن کر واپس لوٹ جانا کس غرض وغایت کے ماتحت تھا۔سو جاننا چاہیے کہ جنوں کی ہستی کا عقیدہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کم و بیش دنیا کی ہر قوم میں پایا جاتا ہے اور مذہبی اور غیر مذہبی ہر دو قسم کے لٹریچر میں اس کا وجود ملتا ہے مگر اس کی تفصیلات میں بہت اختلاف ہے بعض قوموں کے لٹریچر میں جنات کے اندر ایک قسم کی خدائی طاقت تسلیم کی گئی ہے اور انہیں قابل پرستش مانا جاتا ہے۔بعض میں ان کو بلا استثنا ایک نا پاک مخلوق قرار دیا گیا ہے اور گویا شیطان اور ابلیس کی طرح خیال کیا جاتا ہے مگر اسلام ان ہر دو قسم کے خیالات کو ر ڈ کرتا ہے اور یہ تعلیم دیتا ہے کہ جن اللہ تعالیٰ کی ایک مخفی مخلوق ہے جس میں انسانوں کی طرح اچھے اور بُرے دونوں قسم کے افراد پائے جاتے ہیں لیکن اس مخلوق کا دائرہ انسانوں سے بالکل جدا ہے اور ایک علیحدہ عالم سے تعلق رکھتا ہے۔البتہ کہیں کہیں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت تمثیلی رنگ میں جنوں کے وجود کا خاص خاص انسانوں کو نظارہ کرا دیا جاتا ہے مگر ظاہر زیادہ صحیح طور پر یہ شہر شام اور عراق کے درمیان واقع ہے۔منہ * : سورۃ احقاف: ۳۰ و سورة جن: ۱ مثلا دیکھو صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب الحبر في الصبح