سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 192 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 192

۱۹۲ ہے۔اس صورت میں گویا کفار مکہ کو چاند کے دوٹکڑے ہو جانے کا معجزہ دکھانے میں یہ اشارہ تھا کہ اب تمہاری حکومت کا خاتمہ ہونے والا ہے اور اس کی جگہ اسلامی حکومت قائم ہوگی۔گویا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو خدا تعالیٰ نے ان کی نظروں میں چاند کو دوٹکڑے کر کے زبانِ حال سے بتا دیا کہ تم مجزہ مانگتے ہو اور یہاں تمہاری موت کی گھنٹی بج رہی ہے۔چنانچہ قرآن شریف نے اس معجزہ کے بیان کے ساتھ جو اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ (یعنی تمہاری قیامت قریب آ گئی ہے ) کے الفاظ استعمال کئے ہیں ان میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔گویا جب کفار نے معجزہ مانگا تو انہیں جواب میں شق القمر کا معجزہ دکھا کر یہ بتایا گیا کہ اب تمہاری حکومت کا خاتمہ ہو کر محمد رسول اللہ کی حکومت کا دور دورہ شروع ہونے والا ہے جو آپ کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہو گا اور چونکہ کفارا اپنی روایات کی بنا پر اس اشارے کو سمجھتے تھے وہ بے اختیار ہو کر بول اُٹھے کہ سحر مستمر یعنی اے محمد ! اگر تمہاری موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ایسا ہو گیا تو پھر یہ ایک بڑا پکا جادو ہو گا۔الغرض شق القمر کے معجزہ میں اصل غرض و غایت یہی تھی کہ کفار مکہ کو بتایا جائے کہ اب تمہاری حکومت کا خاتمہ ہے۔اسی تشریح کے ساتھ شق ایک عظیم الشان معجزہ قرار پاتا ہے؛ ورنہ محض ظاہر میں بے نتیجہ طور پر چاند کا دوٹکڑے ہو جانا گوعلم ہیئت کی رو سے ایک عجوبہ ہومگر روحانی رنگ میں اس کا کوئی وزن نہیں۔اسی لیے گذشتہ علماء میں سے بھی امام غزالی اور شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی جیسے محققین نے یہی خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ صرف ایک خدائی تصرف تھا جس کے ماتحت کفار کو چاند دو ٹکڑوں میں ہو کر نظر آیا؛ ورنہ حقیقت میں چاند دوٹکڑے نہیں ہوا تھائے اور جب حقیقہ چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا بلکہ صرف دیکھنے والوں کو ایسا دکھائی دیا تو لامحالہ اس میں کوئی خاص حکمت ہوگی اور وہ حکمت وہی تھی جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔واللہ اعلم۔شق القمر کا معجزہ ہجرت سے قریباً پانچ سال قبل 9 نبوی میں ہوا تھا۔ہے حضرت خدیجہ اور ابو طالب کی وفات جب آپ شعب ابی طالب سے نکلے تو آپ کو پے در پے دو نہایت شدید صدمے پہنچے۔یعنی حضرت خدیجہ اور ابوطالب یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے۔یہ دونوں عمر رسیدہ تھے اور وفات ہر انسان کے لئے مقدر ہے لیکن ان دونوں کا شعب ابی طالب میں محصور ہونے کے زمانہ کے اس قدر قریب فوت ہونا اس بات کا ل : مؤطا امام مالک کتاب الجنائز ے : سیرة النبی جلد سوم : خمیس : مفصل بحث کے لئے دیکھئے سرمہ چشم آریہ۔مصنفہ مقدس بانی سلسلہ احمدیہ