سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 171
11 کیا ایسے شخص کی نسبت یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُس نے کبھی قریش کی خاطر تو حید کو چھوڑ کر شرک اختیار کیا ہوگا ؟ البتہ ایک تو جبیہ اس قصہ کی ممکن ہے اور جیسا کہ علامہ قسطلانی اور زرقانی نے لکھا ہے اور بہت سے محققین نے اس کی تائید کی ہے۔ممکن ہے کہ یہ توجیہ درست ہو اور وہ یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بخاری کی روایت کے مطابق صحن کعبہ میں سورۃ نجم کی آیات تلاوت فرمائی ہوں تو ممکن ہے کہ شیاطین قریش میں سے کسی نے آپ کی آواز میں آواز ملا کر تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَیٰ کا فقرہ ملا دیا ہو جس کی وجہ سے اس وقت بعض لوگوں میں اشتباہ واقع ہو گیا ہو کہ شاید یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہے ہیں کیونکہ یہ ثابت ہے کہ قرآن شریف کی تلاوت کے وقت قریش کی یہ عام عادت تھی کہ وہ اس کے اثر کو مٹانے کے لئے شور کیا کرتے تھے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی ان کے یہ الفاظ آتے ہیں کہ : لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ یعنی قریش کہا کرتے تھے کہ جب تمہارے سامنے قرآن پڑھا جاوے تو اُس میں شور کر کے گڑ بڑ پیدا کر دیا کرو۔شاید اس طرح تم غالب آ سکو۔“ اس توجیہ کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش کی یہ عادت تھی کہ وہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہی فقرہ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلیٰ والا پڑھا کرتے تھے تے پس تعجب نہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ نجم کی آیات تلاوت فرمائی ہوں تو اُن میں سے کسی نے حسب عادت یہاں بھی اس فقرہ کو داخل کر دیا ہو۔اور اس طرح بعض لوگوں کو عارضی طور پر یہ اشتباہ واقع ہو گیا ہو کہ شاید یہ الفاظ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں۔اس توجیہہ کی تائید ابن عربی۔قاضی عیاض، ابن جریر، امام رازکی اور حافظ ابن حجر نے بھی کی ہے۔لیکن ایک اور بات ہے جو اس افواہ اور مہاجرین کی واپسی کے قصہ کو سرے سے ہی مشتبہ کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ تاریخ میں ہجرت حبشہ کے آغاز کی تاریخ رجب پانچ نبوی اور سجدہ کی تاریخ رمضان پانچ نبوی بیان ہوئی ہے اور پھر تاریخ میں ہی یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ اس افواہ کے نتیجہ میں مہاجرین حبشہ کی واپسی شوال ۵ نبوی میں ہوئی تھی ہے گویا آغا ز ہجرت اور واپسی مہاجرین کے زمانوں میں صرف دو سے لے کر تین ماہ کا فاصلہ تھا اور اگر سجدہ کی تاریخ سے زمانہ کا شمار کریں تو یہ عرصہ صرف ایک ہی ماہ کا بنتا ہے۔اب اُس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ قطعی طور پر ناممکن : معجم البلدان جلد ۵ زیر بحث عزمی لا : سورة حم سجدہ: ۲۷ : زرقانی جلد ا باب دخول الشعب ابن سعد حالات واپسی مهاجرین حبشه