سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 139
۱۳۹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں ابوبکر کو زیادہ عزیز رکھتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد وہ آپ کے پہلے خلیفہ ہوئے۔اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی انہوں نے بے نظیر قابلیت کا ثبوت دیا۔حضرت ابو بکر کے متعلق یورپ کا مشہور مستشرق سپر نگر لکھتا ہے کہ: ابو بکر کا آغاز اسلام میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لانا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) خواہ دھوکا کھانے والے ہوں مگر دھوکا دینے والے ہرگز نہیں تھے۔بلکہ صدقِ دل سے اپنے آپ کو خدا کا رسول یقین کرتے تھے۔“ اور سرولیم میور کو بھی سپر نمر کی اس رائے سے کلی اتفاق ہے۔سابقین حضرت خدیجہ، حضرت ابو بکر، حضرت علی اور زید بن حارثہ کے بعد اسلام لانے والوں میں پانچ اشخاص تھے جو حضرت ابو بکر کی تبلیغ سے ایمان لائے اور یہ سب کے سب اسلام میں ایسے جلیل القدر اور عالی مرتبہ اصحاب نکلے کہ چوٹی کے صحابہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ان کے نام یہ ہیں : اول حضرت عثمان بن عفان جو خاندان بنوامیہ میں سے تھے۔اسلام لانے کے وقت اُن کی عمر قریباً تمہیں سال کی تھی۔حضرت عمرؓ کے بعد وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تیسرے خلیفہ ہوئے۔حضرت عثمان نهایت با حیا، با وفا، نرم دل، فیاض اور دولتمند آدمی تھے۔چنانچہ کئی موقعوں پر انہوں نے اسلام کی بہت بہت مالی خدمات کیں۔حضرت عثمان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ نے انہیں پے در پے اپنی دولڑ کیاں شادی میں دیں جس کی وجہ سے انہیں ذوالنورین کہتے ہیں۔دوسرے عبدالرحمن بن عوف تھے جو خاندان بنو زہرہ سے تھے جس خاندان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ تھیں۔نہایت سمجھدار اور بہت سمجھی ہوئی طبیعت کے آدمی تھے۔حضرت عثمان کی خلافت کا سوال انہی کے ہاتھ سے طے ہوا تھا۔اسلام لانے کے وقت ان کی عمر قریباً تمہیں سال کی تھی۔عہد عثمانی میں فوت ہوئے۔تیسرے سعد بن ابی وقاص تھے جو اس وقت بالکل نوجوان تھے یعنی اس وقت اُن کی عمر انیس سال کی تھی۔یہ بھی بنوزہرہ میں سے تھے اور نہایت دلیر اور بہادر تھے۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں عراق انہی کے ہاتھ پر فتح ہوا۔امیر معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔چوتھے زبیر بن العوام تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔یعنی صفیہ بنت لائف آف محمد مصنفہ میور صفحه ۵۶