سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 109 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 109

1+9 شق صدر کی ظاہری علامات کا مفقود ہونا یعنی اس وقت آپ کی دائی وغیرہ کو اُس کی کسی ظاہری علامات کا نظر نہ آنا بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک کشف تھا جس کا دائرہ دوسرے بچوں تک بھی وسیع ہو گیا اور جیسا کہ خود اس کشف کے اندر یہ تصریح ہے اس سے مراد یہ تھی کہ خدائی فرشتہ نے متمثل ہو کر عالم کشف میں آپ کا سینہ چاک کیا اور تمام کمزوریوں کی آلائش آپ کے اندر سے نکال دی۔احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ معراج کی رات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی قسم کے شق صدر کا واقعہ ہوا اور فرشتوں نے آپ کا دل نکال کر زمزم کے مصفا پانی سے دھویا اور پھر اپنی جگہ پر رکھ دیا۔اس جگہ یہ ذکر کرنا بھی غیر مناسب نہ ہوگا کہ سرولیم میور نے اس واقعہ کا ذکر کر کے طعن کے رنگ میں یہ ریمارک کیا ہے کہ نعوذ باللہ یہ ایک مرگی کا دورہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا۔ہم کسی کی زبان کو تو نہیں روک سکتے مگر یقیناً میور صاحب نے یہ اعتراض کرتے ہوئے پرلے درجے کے تعصب سے کام لیا ہے۔کیونکہ اول تو سب لوگ جانتے ہیں کہ مرگی کا بیمار ایک کمزور دماغ والا انسان ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خود میر صاحب کو اقرار ہے کہ آپ بہترین قوائے جسمانی کے مالک تھے۔علاوہ ازیں خود یہ روایت بھی جس کی بناء پر یہ اعتراض کیا گیا ہے اس اعتراض کا رد کرتی ہے۔کیونکہ روایات میں یہ صاف لکھا ہے کہ اس نظارہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی نے بھی دیکھا اور اُسی نے بھاگ کر اپنے والدین کو اطلاع دی کہ میرے قریشی بھائی کو دوسفید پوش آدمی زمین پر گرا کر اس کا سینہ چاک کر رہے ہیں۔کیا دُنیا میں کوئی مرگی ایسی بھی ہوتی ہے جس کے متعلق دوسرے لوگ اس قسم کے نظارہ کی شہادت دیں۔بے شک وہ شخص جسے مرگی کا دورہ پڑتا ہے وہ خود اپنے خیال میں یہ گمان کر سکتا ہے کہ اُسے کسی نے پکڑ کر زمین پر دے مارا ہے لیکن یہ کہ اُسے دیکھنے والے لوگ بھی اس قسم کا نظارہ دیکھیں یہ ایک ایسی بات ہے جسے سوائے ایک متعصب انسان کے کوئی شخص زبان پر نہیں لاسکتا۔بقیہ حاشیہ : - میں بھی نظر آ جاتے ہیں۔یعنی عالم بیداری میں اُن پر ایک ایسی حالت طاری ہو جاتی ہے کہ وہ ظاہری حواس سے الگ ہو کر ( یا بعض اوقات ظاہری حواس کے ہوتے ہوئے بھی ) کوئی خاص نظارہ دیکھتے ہیں اور ایسی حالت میں جو نظارہ وہ دیکھتے ہیں وہ اصطلاح میں کشف کہلاتا ہے۔کشف میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ آدمیوں تک اس کا اثر پہنچتا ہے۔یعنی صاحب کشف کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ایسے نظارہ میں شریک ہو جاتے ہیں۔منہ ل : بخاری باب المعراج