سیرت حضرت اماں جان — Page 27
27 22 حضرت اماں جان کے صدقہ کی رقوم از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے حضرت اماں جان اطال الله ظلها کی تشویش ناک بیماری کی وجہ سے بعض جماعتوں اور افراد نے مجھے صدقہ کی کچھ رقوم بھجوائیں ہیں۔چونکہ آجکل علیحدہ علیحدہ رسید بھجوانا مشکل ہے۔اس لئے ایسے احباب کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ ایسی رقوم درج ریکارڈ کر کے مستحق غرباء میں تقسیم کر دی جاتی ہیں۔اور بعض صورتوں میں جانور ذبح کر کے صدقہ کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ ایک دوست کی خواب کی بناء پر ایک اونٹ بھی صدقہ کرایا گیا۔حضرت اُم المومنین طوّل الله بقائها کی حالت بدستور نہایت تشویش ناک ہے۔چنانچہ چند دن کے خفیف افاقہ کے بعد آج پھر درجہ حرارت زیادہ ہے۔اور نبض کی حالت بھی خراب ہے اور کمزوری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے جس کے ساتھ کبھی کبھی غفلت کے آثار بھی پیدا ہو جاتے ہیں اور گلے اور گردن میں بھی تکلیف ہے۔احباب دعا ئیں جاری رکھیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت ام المومنین اطال الله ظلھا کی صحت اور عمر میں خارق عادت برکت عطا فرمائے اور ان کے مبارک سایہ کو جماعت کے سر اور خاندان کے سر پر لمبے سے لمبا کر دے آمین یا ارحم الراحمین۔جو جماعتیں یا افراد جماعت صدقہ کرنا چاہیں۔ان کے لئے بہتر ہے کہ مقامی مستحقین میں تقسیم کر دیں اور اس تعلق میں سائل اور نظر آنے والے مسکین اور محروم تینوں طبقات کو مدنظر رکھیں مسکین کے مفہوم میں بتائی اور بیوگان بھی شامل ہیں۔لیکن اگر کوئی دوست اپنی رقوم یا ان کا کچھ حصہ یہاں ربوہ میں بھجوانا چاہیں تو انشاء اللہ ایسی رقوم کی تقسیم کا انتظام کر دیا جائے گا۔لیکن مقدم حق مقامی غرباء کا ہے۔دوستوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ صدقہ بھی دراصل ایک قسم کی دعا ہے۔کیونکہ جس طرح مونہہ کی دعا قولی دعا ہے۔اسی طرح صدقہ عملی دعا ہے۔جس کے ذریعہ ایک مومن اپنی قولی دعا پر اپنے عمل کی مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔لیکن ایسے موقعوں پر کسی قسم کے تکلف یا ریا وغیرہ کا رنگ ہر گز نہیں ہونا چاہیئے۔بلکہ اگر دل میں حقیقی خواہش پیدا ہو تو حسب توفیق خاموشی کے ساتھ صدقہ دے دیا جائے۔خاکسار: مرزا بشیر احمد ربوہ ۳