سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 26 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 26

26 سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔اسی طرح میری بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی۔اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔“ ( تریاق القلوب صفحه ۶۴-۶۵) اور دوسری جگہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے حضرت ام المومنین کے متعلق فرماتا ہے کہ اُشكُرُ نِعْمَتِی رَاتَيْتُ خَدِيجَتِی یعنی ” میری اس نعمت کا شکر ادا کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پالیا ہے۔“ اس جگہ خدیجہ کے نام میں خاندان کی بنیادرکھنے والی خاتون کی طرف اشارہ ہے۔جیسا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول کریم علیہ کے خاندان کی بانی تھیں۔ان حوالوں سے حضرت اُم المومنین اطال الله ظلھا کا بلند اساسی مقام ظاہر وعیاں ہے۔پس دوستوں کو ان ایام میں حضرت اُم المومنین کے لئے خاص طور پر دعا سے کام لینا چاہیئے۔اور دعا بھی ایسی ہونی چاہیئے جو تضرع کا رنگ رکھتی ہو۔اور ایک قدرتی ابال کی طرح پھوٹ پھوٹ کر باہر آئے۔آجکل حضرت اماں جان کی حالت بے حد تشویش ناک ہے۔بلکہ جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں اسے دراصل نازک کے لفظ سے تعبیر کرنا چاہیئے۔مگر ہمارا خدا اپنی تقدیر پر بھی غالب ہے اور یہ وہ عظیم الشان رحمت ہے۔جس کی طرف اسلام کے سوا کسی اور مذہب نے راہ نمائی نہیں کی۔حقیقہ غور کیا جائے۔تو یہ کتنی بابرکت تعلیم ہے کہ اولا اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کسی بیماری کو لا علاج نہ سمجھو۔کیونکہ صحیفہ فطرت میں موت کے سوا ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ثانیاً اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کوئی چیز تقدیر عام کے ماتحت مقدر بھی ہو چکی ہو تو پھر بھی مایوس نہ ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب بھی ہے اور اپنی تقدیر عام کو اپنی تقدیر خاص۔۔۔۔اور ثالثا اسلام یہ سکھاتا ہے کہ اگر کسی مصلحت سے خدا اپنی کوئی نہ بدلے تو پھر بھی سچے مومنوں کو ہرگز ہراساں نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ مومنوں کے اجتماع کا آخری نقطہ خدا کی ذات ہے۔یہ تعلیم کتنی پاکیزہ اور امید کے جذبات سے کتنی معمور ہے کہ ہمارے آسمانی آقا نے ہمارے ہر دکھ کا علاج پہلے سے مہیا کر رکھا ہے۔لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہر حال میں اپنے خدا سے اس کی بہترین نعمت کے طالب ہوں۔وقال الله تعالى اَنَا عِندِ ظَنِّ عَبْدِى وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ - )