سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 25 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 25

پکارتے رہو۔“ 25 25 اس آیت میں تضرع کا لفظ بظاہر بے موقعہ اور بے جوڑ نظر آتا ہے۔کیونکہ خفیة کے مقابل ظاہر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔نہ کہ تضرع کا۔لیکن اگر غور سے دیکھا جائے۔تو اس جگہ اس لفظ کے اختیار کرنے میں ایک بھاری حکمت ہے۔کیونکہ ظاہر کے لفظ کی جگہ تضرع کا لفظ استعمال کر کے خدا تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہے۔کہ ظاہر کی عبادت صرف وہی قابل قبول ہوتی ہے جس میں دلی اور طبعی جذبات کے اظہار کا رنگ ہو۔دراصل عربی میں تضرع کا لفظ ضرع سے نکلا ہے۔جس کے معنے پستان یا تھن کے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مومنو! بے شک تم ظاہر میں بھی عبادت بجالاؤ۔مگر یہ عبادت دودھ دینے والے جانور کی طرح ہونی چاہیئے۔کہ جو چیز اندر ہے لازماً وہی باہر آئے۔اور آئے بھی طبعی اور قدرتی رنگ میں اور کسی قسم کے تکلف یار یا کا پہلو ہرگز نہ پایا جائے۔اور یہی اصول صدقات وغیرہ میں مد نظر ہونا چاہئے۔کہ وہ بالعموم مخفی طور پر دیے جائیں۔تاکہ کسی فرد کی کمزوری کی وجہ سے ان پر تکلف اور ریا کا پردہ نہ پڑ سکے البتہ جب دل کے اندرونی جذبات طبعی ابال کی صورت میں ظاہر ہوں۔جیسا کہ بچے کے رونے پر ماں کا دودھ بہ نکلتا ہے۔تو پھر ان کے اظہار میں حرج نہیں۔کیونکہ جذبات کا مخلصانہ اور طبعی اظہار دوسروں کے واسطے ہمیشہ نیک تحریک کا باعث بنتا ہے۔اور لوگوں میں اپنے پاک نمونہ سے نیکی پھیلانا بھی اسلام کے اہم اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔اس نوٹ کے شروع میں میں نے حضرت اُم المومنین اطال اللہ ظلھا کو ایک جہت سے خاندان کا بانی کہا ہے۔اس پر تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔کیونکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں ایک لحاظ سے خاندان کا بانی قرار دیا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں: جیسا کہ لکھا گیا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے ہاں میں ایک شریف اور مشہور خاندان سادات میں میری شادی ہوگئی۔۔۔سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا۔کہ۔۔۔۔۔۔میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمائیت اسلام کی ڈالے گا۔اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا۔جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے۔اور اس سے جو اولاد پیدا کرے۔جوان نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا دے۔اور یہ عجیب اتفاق ہے۔کہ جس طرح