سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 257 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 257

257 خدایا اب کیا ہو گا ! کیوں نالائقی کی۔کیوں حکم نہ مانا ! کیوں دو دن غیر حاضر ہوا۔حضرت اماں جان نے جب دیکھا کہ میاں ماننے میں نہیں آتے۔تو جھٹ جیب سے ایک روپیہ نکال میز پر رکھ دیا۔اور کہا۔اچھا نہیں مانتے تو لو یہ اٹھا لو۔اب بھلا روپیہ اٹھائے تو کون اٹھائے۔وہ تولہ کا روپیہ نہیں۔وہ منوں کا روپیہ ہو گیا ہے۔جواٹھ نہیں سکتا۔ہمارے دل مغموم ہیں اور آنکھیں اشکبار۔اماں جان ! یتیموں کی اماں ! مسکینوں کی اماں ! آپ کی جدائی کا صدمہ دل پر سخت بھاری ہے۔مولیٰ اپنی شان کے مطابق اپنی رحمتوں اور برکتوں کا آپ پر نزول فرمائے اور آپ کی آل پر آپ کی جماعت پر اس کی ان گنت رحمتوں کی بارش ہو۔۱۳۱) اها ملازموں کی دلجوئی کا لطیف طریق از مکرم اخوند فیاض احمد صاحب خاکسار کی والدہ صاحبہ کی موجودگی میں ایک دفعہ ایک عورت نے آپ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ فلاں ملازمہ کہتی ہے کہ اس کو روٹی تھوڑی ملی ہے۔تو آپ نے باورچی خانہ سے اس کا کھانا منگوایا اور اس کے برتن میں اور سالن ڈالا۔دو روٹیاں اور منگوا کر اس کی روٹیوں میں شامل کر کے اپنے تولیہ میں لپیٹ کر رکھ لیں اور فرمایا کہ وہ بچوں والی ہے اس کو روٹی کم نہ دو۔جب وہ ملازمہ آئی تو اس کی دلجوئی کے لئے فرمایا دیکھو میں نے تمہاری روٹیاں اپنے تولیے میں لپیٹ کر رکھی ہیں تاکہ ٹھنڈی نہ ہو جا ئیں۔۱۳۲) از اہلیہ گوہر دین صاحب میرے شوہر محترم سالہا سال بیمار رہے ہیں۔دعا کے لئے آپ کی خدمت میں عرض کرتی۔پھر جب کبھی دارالامان آتی۔اور چونکہ میرے شوہر بیماری کے سبب آنہ سکتے۔مجھ سے ان کی بیماری کی ذراذرا کیفیت دریافت فرما ئیں۔غذا ، پر ہیز ، آرام کے بیش بہا مشورے عطا فرما تیں۔تسلی دیتیں اور آخر میں ” میں دعا کروں گی اللہ فضل کرے گا۔ایک مرتبہ میں آپ کے پاس بیٹھی تھی۔کوئی عورت اپنے کسی بیمار عزیز کے حالات آپ کو سنا رہی