سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 232 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 232

232 بچوں سے شفقت و محبت از محترمہ آمنہ بیگم اہلیہ کرامت اللہ صاحب میری عمر کوئی آٹھ سال کی ہوگی۔جب پہلی دفعہ حضرت اماں جان میرے والد محترم ملک مولا بخش صاحب مرحوم کے ہاں ضلع گورداسپور تشریف لائیں۔ان کی آمد کی اس قدر خوشی تھی کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ان کی تشریف آوری پر۔جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو ہم سب ان کے ہمراہ دستر خوانوں پر بیٹھیں۔میں اور میری ایک سہیلی تھوڑا سا کھانا کھا کر اٹھنے لگیں تو فرمایا۔بچیو! دستر خوان سے خالی پیٹ نہیں اٹھنا چاہئے۔ظاہر ہے کہ محض حجاب کی وجہ سے اٹھنے لگی تھیں۔ان کی ہدایت کے ماتحت پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔۹۰ مکرم امتۃ الرشید شوکت صاحبه میرے بھائی جان بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں میں بی۔اے میں پڑھتا تھا اور چھٹیوں میں قادیان آیا ہوا تھا ایک دن صبح کے وقت اپنی بیٹھک میں بیٹھا ہوا تھا مطالعہ کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔بیٹھک کا دروازہ کھلا تھا سامنے حد نظر تک سرسبز کھیت لہلہا ر ہے تھے۔دُور درختوں کے جھنڈ میں کنوئیں کے چلنے کی آواز آرہی تھی۔کہ اتنے میں سامنے سے حضرت اماں جان اپنی خادماؤں کے ساتھ قدرت کے ان دلفریب مناظر کی سیر کرتی ہوئیں ہماری بیٹھک کے سامنے سے گزریں۔مجھے دیکھ کر فرمانے لگیں۔”نورالدین کیا کر رہے ہو۔‘ بھائی جان بیان کرتے ہیں کہ میرا چہرہ خوشی اور مرعوبیت کے ملے جلے جذبات سے سُرخ ہو گیا اور میں نے نہایت آہستہ آواز میں کہا کہ اماں جان پڑھنے لگا ہوں۔لیکن وہ پیارے الفاظ آج تک میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔حیرانگی آتی ہے اس بابرکت وجود پر کہ کس طرح وہ اپنے حقیر خادموں کے بچوں پر بھی شفقت کی نظر رکھتی تھیں۔ایک بچہ نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں بچے یہی سمجھتے ہوں گے کہ اماں جان مجھ سے زیادہ محبت کرتی تھیں اے خدا! یہ کیسی عالمگیر محبت ہے جو تو اپنے پیاروں کو دیتا ہے؟