سیرت حضرت اماں جان — Page 221
221 مکرمہ حمیده صابرہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب عزیزہ امتہ الحفیظ سلمہا اللہ کے بیاہ پر اپنے ہاتھوں سے بچے سفید موتیوں کا بہت سی لڑیوں والا ہار پر وکرلائیں اور ساتھ ایک ریشمی جوڑا بھی۔مہندی کے دن صبح کے وقت گھر پر تشریف لا کر اپنے ہاتھ سے تھوڑی تھوڑی مہندی گوندھ کر حفیظ سلمہا اللہ کو لگائی اور اپنے دست مبارک پر بھی لگائی۔فرمایا شاید میں شام کو نہ آسکوں۔اسی طرح میرے چھوٹے بھائیوں عزیز عبد المنان سلمہ اللہ وعبد السلام سلمہ اللہ کے بیاہوں پر بھی شرکت فرمائی۔دونوں بھائیوں کا بیاہ میری چچا زاد دو بہنوں کے ساتھ ہوا تھا۔اس لئے کپڑے تیار کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ ایک جیسی چیزیں تیار ہوں۔حضرت اماں جان کو دلہنوں کے کپڑے دکھاتے ہوئے بتایا کہ بازار سے سُرخ رومال صرف ایک ملا ہے۔یہ سُنتے ہی حضرت اماں جان نے مسکراتے ہوئے بالکل ویسا ہی سرخ رومال اپنے برقعے کی جیب سے نکال کر عطا فرمایا جسے دیکھ کر ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ایک تو ضرورت پوری ہوئی اور دوسرے تبرک ملا۔پھر گھر جا کر دائی عائشہ کے ہاتھ پچاس روپے تحفہ شادی اور ایک ازار بند بھیجا۔ساتھ دستِ مبارک کی لکھی ہوئی ایک تحریر بھی اور کچھ برتن جو میں نے بیاہ کے موقع پر استعمال کرنے کے لئے آپ سے مانگے تھے۔امتہ الشافی سلمہا اللہ کی شادی پر آپ صبح ہی تشریف لے آئیں۔سارا دن ہمارے گھر میں قیام فرمایا اور نہایت سادگی سے ہمارے باورچی خانہ میں بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا۔میں درخواست کرتی رہی ” اماں جان! میں کھانا کمرے میں لاتی ہوں۔“ فرمایا۔”نہیں ، میں یہیں بیٹھ کر کھانا کھاؤں گی۔‘ہے حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب قادیان کی۔۔۔ڈھاب کے مشرقی پل اور میرے مکان کے درمیان اور کوئی مکان نہ تھا۔ہمیں خدمت کا کوئی موقع ملے۔ہمارے لئے نہایت خوشی اور فخر کا موجب تھا۔لیکن حضور رضی اللہ عنہا باریک بین اور حساس طبیعت رکھتے ہوئے هل جزاء الاحسان الا الاحسان کا خاص خیال رکھتی تھیں۔میری بیوی حاجرہ مرحومہ قرآن شریف کی عالم تھیں۔صرف ناظرہ ہی نہیں۔بلکہ ترجمہ اور تفسیر بھی کم از کم مجھ سے زیادہ جانتی تھیں۔اس لئے ان کو نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور سیدہ امتہ السلام صاحبہ کو ناظرہ قرآن شریف پڑھانے کی خدمت کا موقع ملا۔گھر پر آکر اور بچیوں