سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 222 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 222

222 کے ساتھ پڑھتی تھیں۔ہم نے کبھی کسی سے نہ پہلے اور نہ پیچھے کبھی معاوضہ لیا۔نہ ہمیں خیال تھا۔لیکن جب ان دونوں بچیوں نے قرآن شریف ختم کیا۔تو مجھے سخت حیرت ہوئی کہ حضرت اماں جان نے میری بیوی ہاجرہ مرحومہ کو ایک سونے کا ہار عنایت فرمایا۔میں نے جب ہار دیکھا۔اس وقت میرا اندازہ قیمت کوئی اڑھائی تین سو روپے کا تھا۔ہمیں جس قدر حیرت ہوئی اس سے بڑھ کر خوشی ہوئی۔کیونکہ ہم نے اسی نوازش کو تبرک اور خاص امتیازی نشان کے طور پر سمجھ کر قبول کیا۔(کوئی) اور صاحب اگر دیتے تو ہم ہرگز قبول نہ کرتے۔اور لوگوں پر یہ امر اس قدر معلوم اور معروف تھا۔کہ کبھی کسی نے معاوضہ پیش کرنے کی جرات نہیں کی۔واجر الله خير لنا من الدنيا ومافيها۔جب میں دوسری دفعہ ولایت سے واپس آیا۔تو میں باغ والے مکان میں چلا گیا۔اس مکان کی رہائش کے زمانہ میں مجھے معلوم ہوا۔کہ حضرت اماں جان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کس قدر محبت اور عقیدت تھی۔آپ قریباً ہر روز صبح مزار اطہر پر تشریف لاکر دعا فرمایا کرتی تھیں۔اور دعا کے بعد ا کثر ہم خادمان کے پاس تشریف لاتیں۔جو ہمارے لئے نہایت خوشی اور اطمینان کا موجب ہوتا تھا۔اس کے بعد جب میں نے دارالانوار میں مکان بنایا۔حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہاں بھی تشریف لایا کرتی تھیں۔اگر چہ یہ مکان خاصہ دور اور دارالانوار کے علاقہ میں پہلا مکان تھا۔ے کے محترم عبد الرحیم صاحب شہر مار بوہ سے تحریر فرماتے ہیں: غالبا یہ ۱۹۲۱ء کا واقعہ ہے۔حضرت بوزینب بیگم صاحبہ بیگم حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے اپنی کوٹھی واقعہ محلہ دار الفضل قادیان میں رہائش کیلئے ہمیں ایک مکان دے رکھا تھا۔جس میں ہماری بود و باش تھی۔اس وقت ہمارا کنبہ پانچ افراد پر مشتمل تھا۔اس وقت میری تنخواہ کچھ زیادہ نہ تھی گزراہ کچھ تنگی سے ہوتا تھا۔حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا اکثر حضرت میاں شریف احمد صاحب کی کوٹھی پر تشریف لایا کرتی تھیں۔ان کو ہماری اس تنگی سے گزارے کا علم ہو گیا۔ان کو معلوم ہوا کیونکہ تمام کنبے کیلئے صرف آدھ سیر دودھ لیا جاتا ہے۔میرے ان چھوٹے بچوں کی حالت دیکھ کر ان کو ترس آیا۔کوٹھی سے واپس جا کر حضرت اُم المومنین نے پہلا یہ کام کیا کہ اپنی دودھ دینے والی گائے ہمارے گھر