سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 219 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 219

219 کر سکتی۔میری جب شادی ہوئی۔تو میرے شوہر چوہدری کرامت علی صاحب طالب علم۔اثناء میں حضرت اماں جان دہلی تشریف لائیں۔اور ایک دور وز میرے سسرال میں قیام فرمایا اور فرمایا محض تیری وجہ سے یہاں ٹھہری ہوں تو مجھے بچپن سے عزیز ہے۔مائی کا کونے مجھے بتایا ( وہ اماں جان کے ہمراہ دہلی آئی تھیں ) کہ آمنہ اماں جان تیرے لئے بڑی فکرمند ہیں کیونکہ ایک دن میں نے شام کی نماز کے وقت یہ کہتے سنا کہ اے اللہ تو آمنہ پر رحم کر دے تو خوش ہو جا یہ الفاظ ان کے منہ سے بڑے درد سے نکلے تھے تیرے حق میں دعا قبول ہوگی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو سنا۔میرے میاں نے تعلیم چھوڑ رکھی تھی۔دوبارہ کالج میں داخل ہوئے اور تعلیم مکمل کی حضرت اماں جان کی دردمندانہ دعاؤں کی بدولت جس قدر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل کئے میں گنوا نہیں سکتی۔اے مکرمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب ۱۹۳۶ء میں جب میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو ایک بوسکی کا تکیے کا غلاف کاڑھ کر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔اس کے ایک طرف ایک سینری اور دوسری طرف ناٹ سیچ (Knot Stitch) کی سلی تھی۔آپ نے از راہ کرم اُسے بہت پسند فرمایا اور وہ مقدس لب تا دیر میرے اور میرے والدین اور بہن بھائیوں کے لئے دعا کرتے رہے۔اور یہ غلاف آپ کو اس قدر پسند آیا کہ بعد میں بھی آپ نے کئی مرتبہ اس کی تعریف کی اور وہ کافی دیر تک آپ کے استعمال میں رہا۔قادیان میں ہمارے گھر میں موتیا اور چنبیلی کے اچھی قسم کے پودے تھے۔میری والدہ صاحبہ با قاعدہ اہتمام سے پھول چن کر اور بڑے بڑے ہار بنا کر حضرت اماں جان کو بھیجتیں اور پھولوں کے موسم میں یہ کام اس قدر شوق اور باقاعدگی سے کرتیں کہ شاید ہی کسی دن ناغہ ہوتا۔اکثر دفعہ میں یا والدہ صاحبہ خود حاضر خدمت ہو کر اپنے ہاتھوں سے وہ ہارا ماں جان کے گلے میں ڈالتیں۔آپ از راہ شفقت اپنا سر آگے بڑھا دیتیں۔تاہم ہار آسانی سے ڈال سکیں۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہم نے صبح کے وقت کے بھیجے ہوئے ہار شام کو جا کر آپ کی گردن سے اتارے اور تازہ ہار پہنا دیئے اور اُتارے ہوئے ہار اپنے پاس رکھ لئے آپ بہت دعائیں دیتیں اور متعدد مرتبہ والدہ صاحبہ کو فرمایا۔بیٹی ! میں تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے بہت دعا کرتی ہوں۔۷۲