سیرت حضرت اماں جان — Page 218
218 اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر ادا کیا۔کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجزہ کی مانی ہوئی نذر پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔جس سے میں سرخرو ہو گئی۔اس کے بعد میں حضرت اماں جان سے رخصت لے کر واپس اپنے مکان فضل منزل پر آگئی۔گو یہ نذرانہ حقیر تھا۔اور حضرت اماں جان کی شان کے مطابق نہ تھا۔جس کو حضور نے منظور کیا۔کہ میرا دل شکستہ نہ ہو۔۱۹ مکرمہ حمیده صابرہ صاحبہ بنت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب حضرت اماں جان تحفے تحائف بھی بہت دیتی تھیں۔آپ ڈلہوزی تشریف لے گئیں۔آپ کی واپسی پر آپ کی خادمہ عائشہ ہمارے گھر آئیں۔اُن دنوں حضرت اماں جان نے ایک دو پٹہ مجھے کاڑھنے کے لئے دیا ہوا تھا۔میں نے مائی عائشہ صاحبہ کو آتے دیکھا تو خیال آیا کہ دو پٹہ لینے کے لئے آئی ہیں۔اور چونکہ مصروفیت کی بناء پر میں نے وہ دو پٹہ ختم نہیں کیا ہوا تھا۔اس لئے دل میں ندامت ہوئی کہ جواب دینا پڑے گا کہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔مگر وہ میرے پاس آئیں اور اپنی جھولی میں سے ایک نہایت خوبصورت چھپا ہوا دوپٹہ جس پر چنٹ پڑی اور خوشبو لگی ہوئی تھی۔نکال کر مجھے دیا کہ اماں جان ڈلہوزی سے تمہارے لئے تحفہ لائی ہیں۔میرے اس وقت کے جذبات احاطہ تحریر میں نہیں آسکتے۔احساس ندامت کی بجائے خوشی کی لہر تمام جسم میں دوڑ گئی اور اس عنایت وذرہ نوازی سے اللہ تعالیٰ کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔الحمد اللہ۔۷۰ محترمہ آمنہ بیگم اہلیہ کرامت اللہ صاحب حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا جہاں تشریف لے جاتیں تحائف خرید تیں۔آپ کو خریدنے کا بہت شوق تھا۔باوجود اس کے گورداسپور ایک چھوٹا سا شہر تھا۔وہاں سے بھی مختلف اقسام کے تحائف خرید فرماتیں۔ایک دقعہ جب تشریف لائیں تو عاجزہ کے واسطے ایک پھولدار دو پٹہ اور خوبصورت رو مال اور اگر بتی کا ایک پیکٹ بطور تحفہ لائیں اور اکثر قادیان سے سفید شکر یا کوئی چیز تحفہ بھجوادیا کرتی تھیں ۱۹۲۴ء میرے والد صاحب کا تبادلہ حصار ہو گیا۔اور ہم دوری کے باعث حضرت اماں جان کی عنایات سے محروم ہو گئے۔ہم جب ان سے ملنے قادیان گئے تو فرمایا آمنہ ! اب تم دور جا رہی ہو۔تیرے بلانے پر میں گورداسپور چلی جاتی تھی۔جا تجھے اللہ تعالیٰ خوش رکھے اور نیک نصیب کرے۔اماں جان کی اس دعا کی بدولت ہی اللہ تعالیٰ نے نے آج مجھے اس قدر فضلوں کا وارث بنایا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا اور حضرت اماں جان کا پورے طور پر شکر یہ نہیں ادا