سیرت حضرت اماں جان — Page 16
16 سنگ بنیا درکھا۔مسجد مبارک کی تعمیر کیلئے افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دنیا بھر کی جماعتوں نے چندہ جات دیئے۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے اپنی طرف سے ۴۰ روپے عطا فرمائے۔آپ کا اسم گرامی چندہ دہندگان کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔14 جون ۱۹۵۰ء: ۵ جون ۱۹۵۰ء کی صبح سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ہمراہ حضرت سیدہ ام المومنین حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحب ، حضرت سیدہ ام وسیم احمد صاحب ، حضرت سیدہ ام متین صاحبہ، حضرت سیدہ بشری بیگم صاحبہ، حضرت صاحبزادی امتہ النصیر صاحبہ مکرمہ صاحبزادی امتها الجمیل بیگم صاحبہ، صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب پاکستان میل کے ذریعہ لاہور سے کوئٹہ تشریف لے گئے۔۱۷ اگست ۱۹۵۰ء: ۹ راگست کو حضرت اماں جان شمع سیدہ ام وسیم احمد صاحبہ اور صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد کوئٹہ سے لا ہور تشریف لے گئیں۔۶۸ وصال ۲۰ ر ا پریل ۱۹۵۲ء: حضرت اماں جان ماہ جنوری سے اپریل ۱۹۵۲ء تک مسلسل علیل رہیں۔اس دوران احباب جماعت کی خدمت میں دعائیہ اعلانات شائع ہوتے رہے۔نیز غیر معمولی صدقات کی توفیق ملی۔تاہم بالآخر تقدیر الہی غالب آ کر رہی۔آپ کا وصال بقضائے الہی ۲۰ را پریل کی شب ساڑھے گیارہ بجے ہوا۔وصال کے وقت آپ کی عمر پچاسی اور چھیاسی سال کے درمیان تھی۔آپ کا جنازہ سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ہزاروں افراد کی موجودگی میں پڑھایا اور تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں عمل میں آئی۔انا لله وانا اليه راجعون۔۱۹۔