سیرت حضرت اماں جان — Page 208
208 چھوٹا ہے اور جگہ صاف نہیں عرض کیا آپ کمرے میں تشریف لے جائیں میں گرم پھل کا آمنہ کے ہاتھ بھجوا دوں گی۔یہاں بچوں کا شور ہے اور باورچی خانہ چھوٹا ہے۔فرمایا فکر نہ کرو۔جگہ چاہے چھوٹی ہو مگر عزیزوں سے بھری ہوئی ہو تو بابرکت ہے میں تو یہاں بیٹھ کر ہی کھانا کھاؤں گی۔میں تو کئی دن یہاں رہوں گی تکلف ٹھیک نہیں۔۵۳ مکرم ملک غلام نبی صاحب آف ڈسکہ حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا میری بیوی عائشہ بی بی سے بہت ہمدردی اور شفقت مادرانہ سے ہمیشہ پیش آیا کرتی تھیں۔اور اپنی بیٹیوں کی طرح خیال رکھتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائے۔آمین۔حضرت اماں جان ایک دفعہ کھارا تشریف لائیں۔میرے ہی غریب خانہ پر سیدھی قادیان سے تشریف لائیں کھانے کا بندوبست ہونے لگا۔تو حضرت اماں جان خود چولہے کے قریب تشریف لے آئیں۔اور میری بیوی کو فرمایا کہ عائشہ تم پرے ہٹ جاؤ۔میں خود آج پکا کر سب کو کھانا کھلاؤں گی۔اللہ اللہ ایسی مہربان شفیق ماں کہ بطور مہمان ہیں اور ہماری قابل احترام ہیں لیکن وہ خود اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر سب کو کھلاتی ہیں۔اور آخر میں ایک لمبی دعا فرمائی۔اور عصر کے بعد واپس قادیان روانہ ہوگئیں۔سارا دن بڑی خوشی سے اپنی خدام عورتوں میں اس طرح گزارا جس طرح ایک مشفق ماں اپنے بچوں میں گزارتی ہے۔۵۴ از امتہ الحمید بیگم اہلیہ قاضی محمد رشید آف نوشہرہ ۱۹۳۸ء کا واقعہ ہے کہ میں اپنے میاں کے پاس فیروز پور جانے والی تھی۔اُن دنوں میں اپنے محلہ دار البرکات میں بطور سیکرٹری لجنہ اماءاللہ کے کام کرتی تھی اس لئے حضرت اُمّم طاہر مرحومہ نے فرمایا کہ تم پندرہ دن ٹھہر جاؤ۔اور اپنے میاں کو میری طرف سے لکھ دو۔چنانچہ میں رک گئی اور حضرت اُمّم طاہر مرحومہ نے ایک الوداعی پارٹی مجھے اپنے گھر میں دی۔اُسی دن اتفاق سے مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب کی بڑی ہمشیرہ کا رخصتا نہ تھا اس لئے انہوں نے حضرت اماں جان کو بلایا لیکن حضرت اماں جان نے فرمایا آج تو ہمارے گھر میں پارٹی ہے تو میں کیسے آسکتی ہوں۔چنانچہ دعوت میں مجھے حضرت اماں جان کے پہلو میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا۔بعد ازاں اس دعوت سے فارغ ہو کر شام کے قریب حضرت اماں جان