سیرت حضرت اماں جان — Page 209
209 مولوی ابوالعطا ء صاحب کے ہاں بھی تشریف لے گئیں۔۵۵ مکرمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ نیک محمد خان غزنوی صاحب ، جنہیں حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے ہی بچپن سے پرورش کیا تھا، بیان کرتی ہیں: جب مہمان عورتیں حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات کے لئے آتیں تو آپ نہایت خوشی ومسرت سے پیش آتیں اور انہیں شرف مصافحہ بخشتیں اور گھر کے حالات دریافت فرماتیں۔عورتیں دعا کے لئے عرض کرتیں تو آپ فرماتیں۔انشاء اللہ ضرور دعا کروں گی۔“ حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات میں اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت رکھی ہوئی تھی کہ جو بات آپ فرماتیں وہ بہت جلد اللہ تعالیٰ کے فضل سے پوری ہو جاتی۔بچوں پر شفقت ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی شادی تھی تو حضرت اماں جان نے مجھے تقریبا ایک ماہ پہلے اپنے گھر بلایا ہوا تھا۔جیسا کہ ایک حقیقی ماں اپنی بیٹی کو بھائی کی شادی پر بلاتی ہے۔میری لڑکی جس کی عمر اس وقت تقریباً تین سال کی تھی اور خوب صحت مند اور بہت باتیں بھی کرتی تھی۔اس لئے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بچی کو بہت پیار کرتے اور ہر وقت کوئی میٹھی چیز مثلاً کوئی مٹھائی وغیرہ کھانے کو دیتے۔ایک دن میاں صاحب باہر سے آئے تو آتے ہی عزیزہ کولڈ ودیا۔اُس وقت حضرت اماں جان تشریف لائیں اور فرمانے لگیں۔” ناصر احمد تم بچی کو اتنا میٹھا کھلاتے ہو۔گرمی کا موسم ہے یہ میٹھا اس کی آنکھوں سے نکلے گا۔خدا کی قدرت کا معجزہ دیکھئے جس وقت حضرت اماں جان نے یہ الفاظ فرمائے تو اُس وقت خوب تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی۔اسی وقت ہلکا سا با دل آیا اور تیز بارش ہونے لگی۔بچی بارش میں نکلی تو آپ فرمانے لگیں۔”لو اب بارش میں پھرنے لگی۔اس کے تھوڑی دیر بعد عزیزہ کی آنکھوں میں میل اور سرخی آئی اور آنکھیں با قاعدہ ڈ کھنے لگیں اور سُوج کر کہتا ہو گئیں تین چار دن تک تو سخت بے چینی اور گھبراہٹ رہی اور آنکھیں بالکل نہ کھلیں۔جب میں بچی کو کندھے لگائے پھرتے پھرتے تنگ آگئی۔اور چونکہ ہمیں پیاری