سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 205 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 205

205 رشتے کے متعلق بات چیت کی۔آخر آپ کی توجہ اور دعاؤں سے مجھے ایک ایسی بیوی ملی۔جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکھا تھا۔جو اب تک خدا کے فضل سے زندہ ہے۔اور جس کے وجود کو میں اپنے لئے جنت سمجھتا ہوں۔میں نے ۱۹۲۲ء میں محلہ دار الفضل میں ایک چھوٹا سا مکان بنایا۔حضرت اماں جان محض ایک غریب کی حوصلہ افزائی کے لئے خود چل کر خاکسار کے مکان تشریف لائیں۔اور اس چھوٹے سے کچے مکان کو دیکھ کر اس قدر خوش ہو ہو کر کہنے لگیں۔یہ مکان تو بہت ہی اچھا ہے۔اور کچا مکان تو زیادہ آرام دہ رہتا ہے۔ٹھنڈا رہتا ہے گرمیوں میں۔اور گرم رہتا ہے سردیوں میں اور دعا کر کے تشریف لے گئیں۔اللہ الہ کس قدر شفقت تھی۔کتنی محبت تھی اس پاک وجود کے اندر۔کہنے کو تو یہ معمولی واقعات ہیں۔مگر ان معمولی واقعات میں ایک بینا انسان کے لئے اخلاق کے ہزاروں سبق ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔۴۹ مکرمہ عائشہ بی بی والدہ بکرم مجید احمد صاحب در ولیش قادیان خدا وند تعالیٰ کی حکمت تھی کہ اپریل ۱۹۲۴ء میں میرے خاوند چوہدری غلام حسن صاحب اور سر چوہدری علی محمد صاحب دونوں پندرہ دن کے اندراندر مولا حقیقی کو جاملے۔میرے چھوٹے چھوٹے بچے رہ گئے۔صرف ایک لڑکا جوان تھا باقی سب چھوٹے تھے۔ایک طرف میرے اور بچوں کے سر پرست فوت ہو گئے۔دوسری طرف احمدیت کی وجہ سے سخت مخالفت تھی۔سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی مددگار نہیں تھا۔میں ۱۹۲۴ء سے لے کر ۱۹۳۴ ء تک اپنے گاؤں شادی وال میں بیٹھی رہی ۱۹۳۴ ء کے شروع میں چوہدری حکم الدین صاحب کے کہنے پر قادیان آگئی۔اور اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر بچوں کو ساتھ لے کر قادیان میں آئی اور بمع بچوں کے حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کے ہاں ملازم ہوگئی۔بچے بھی نواب صاحب نے کام پر لگا دیے۔ایک سال گزرا ہوگا کہ مجھے سیدہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی بیٹی سیده امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو کہہ کر صرف آٹھ دن کے لئے منگوایا۔کیونکہ سیدہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کے پاس کوئی خادمہ نہ تھی۔اور کہا کہ آٹھ دن کے بعد مائی عائشہ کو بھیج دوں گی۔مگر آٹھ دن کیاے اسال ۴ ماه اخیر دم تک مجھے واپس نہیں جانے دیا۔اس سوا سترہ سال کے دوران میں سیدہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے بہت کوشش کی کہ مجھے