سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 14 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 14

14 مکرم و محترم چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے ( حال وکیل التصنیف تحریک جدیدر بوہ ) بیان کرتے ہیں: ”ہمارے پہلے باور چی غلام محمد صاحب تھے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا تقریباً روزانہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوٹھی، پیدل مع خادمات تشریف لے جایا کرتی تھیں۔اور برقعے کے ساتھ چھتری بھی استعمال فرمایا کرتی تھیں۔دو تین دن تو ہم حجاب میں رہے۔ایک دن ہمت کر کے راستے میں گیسٹ ہاؤس کے سامنے قطار باندھ کر کھڑے ہو گئے اور سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کی۔ایک ایک کا نام اور پتہ دریافت فرمایا۔نیز پوچھا کہ کھانے کا کیا انتظام کیا ہے۔عرض کی کہ ابھی تو لنگر خانے سے آتا ہے۔برتن وغیرہ نہیں خریدے گئے۔اس لئے پکنا شروع نہیں ہوا۔اسی دن حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جو واقعی ہماری اماں جان تھیں۔اپنے ذاتی برتن ہمارے استعمال کے لئے بھجوائے۔جن پر نصرت جہاں بیگم کے مبارک اور ۱۹۴۴ء: ۱۹۴۷ء: تاریخی الفاظ کندہ تھے۔‘۵۶ حضرت سیدہ اماں جان صاحبہ حضرت سیدہ ام طاہر ، مریم النساء بیگم صاحبہ کے ایام بیماری میں لا ہور تشریف لے گئیں۔۵۷ دوران سال ۱۹۴۷ء میں حضرت اماں جان طبیعت کی ناسازی ، شدید نزلہ، کھانسی ، ضعف، سر درد اور کمزوری کی وجہ سے علیل رہیں۔۵۸ ۱۹۴۷ء کے جماعتی اخبارات خصوصاً اخبار الفضل میں با قاعدہ طور پر آپ کی صحت اور شفایابی کے لئے درخواست دعا کے اعلانات شائع ہوتے رہے۔باوجود مسلسل بیماری کے آپ بحالی صحت کے ایام میں مصروف العمل رہیں اور اس عرصہ میں بعض سفر بھی کئے۔۱۹۴۷ء کے بعض وقائع پیش خدمت ہیں۔مارچ ۱۹۴۷ء۔حضرت اماں جان کا سفر سندھ ۵/ مارچ ۱۹۴۷ء کو سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ، مع اہل بیت و دیگر افراد خاندان نیز