سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 183 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 183

183 دروازے میں کھڑی تھیں۔اوپر پہنچتے ہی گلے لگا کر ملیں۔مجھ جیسی اور بھی بیسیوں خادماؤں کے ساتھ حضرت اماں جان کا یہی سلوک تھا۔جب بھی کبھی میں آپ کی خدمت میں ہوتی اور آپ کوئی کھانے کی چیز پھل وغیرہ کھاتیں تو عاجزہ کو بھی مرحمت فرماتیں۔اگر کوئی اور خادمہ پاس ہوتی تو اُسے بھی دیتیں۔۲۱ ۱۹۲۵ء میں جب عاجزہ کی ایک ساڑھے تین سالہ چھوٹی لڑکی کھیلتے میں کچلہ اور سنکھیا کی گولیاں کھا کر آنا فانا فوت ہوگئی تو حضرت اماں جان بنفس نفیس عاجزہ کے غریب خانہ پر افسوس کے لئے تشریف لائیں۔پہلے تو ایسی خطرناک دوا کے لا پرواہی سے رکھنے کی وجہ سے خفا ہوئیں۔پھر تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔" خدا تعالیٰ کے سب کام پر حکمت ہوتے ہیں ، بڑی ہو کر نہ جانے کیسی نکلتی۔خدا تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہو۔اس کے بعد بھی کبھی جب آپ اپنے ساتھ عورتوں کو لے کر باہر سیر کو جاتیں تو کبھی اس عاجزہ کے ہاں بھی تشریف لے آتیں اس لئے ایسی خوشی محسوس ہوتی جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو۔جب تک حضرت اماں جان زیادہ کمزور نہیں ہوئیں آپ اپنے ساتھ دو چار عورتوں کو لے کر کسی کے ہاں پھرتے پھراتے چلی جاتیں اور اس کا حال پوچھ آتیں۔ایسے ایک دفعہ آپ مجھے ساتھ لے کر محلہ دار البرکات میں ماسٹر محمد دین صاحب کی بیوی ( جو ان دنوں بیمار تھیں ) کا حال پوچھنے گئیں اور ان کا سارا مکان اور باغیچہ پھر کر دیکھا۔غرض یہ کہ جماعت سے آپ کا سلوک بالکل مہربان اور مشفق ماؤں کا سا تھا۔۳۲ غالبًا ۱۹۳۹ ء یا ۱۹۴۰ء کا واقعہ ہے کہ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین دیلی تشریف لے گئیں۔ہم لوگ بھی ان دنوں ملازمت کے سلسلہ میں دہلی میں تھے۔لجنہ اماءاللہ دہلی کی طرف سے خاکسار کو مطلع کیا گیا۔کہ لجنہ اماءاللہ دہلی کا جلسہ زیر صدارت اُم المومنین قرار پایا ہے۔ان دنوں میری چھوٹی بچی بیمار تھی۔اس لئے میں جلسہ میں نہ پہنچ سکی تھی۔قدرتی طور پر رنج ہوا جو حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی ملاقات سے محرومی کے لحاظ سے خاص طور پر زیادہ ہوا۔ناچار اپنی معذوری کے اظہار کے ساتھ درخواست دعا حضرت اُم المومنین کی خدمت میں بھجوائی گئی۔چند گھنٹوں کے بعد کیا دیکھتی ہوں۔کہ وہ عظیم الشان ہستی بہ نفس نفیس اپنی میزبان صاحبہ کے ہمراہ غریب خانہ پر رونق افروز ہوئیں۔اس روحانی ماں کی تشریف آوری سے جو خوشی مجھے اپنے گھر میں دیکھ کر ہوئی۔وہ کچھ میرا دل ہی جانتا تھا، عجیب طرح کا فخر محسوس