سیرت حضرت اماں جان — Page 175
175 علاقوں میں بھی کام کیا ہے۔جو اپنے گردو غبار اور دھوپ اور ٹو کے لئے مشہور ہیں۔اور آنکھوں کے لئے سخت مضر لیکن بیماری نے پھر عود نہیں کیا۔یہ واقعہ میں نے اس لئے بیان کیا ہے کہ حضرت اماں جان گو میری بیماری کا خاص خیال تھا۔نیز یہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے کشف اور رویا پر حضور کوکس قدر ایمان تھا۔ڈاکٹری رپورٹ کے خلاف ایک رویا پر یقین کرنا کس قدرز بر دست ایمان کا ثبوت ہے۔اور یہ دلی تعلق کا ثبوت تھا۔کہ علم ہوتے ہی سب سے پہلے یہی کام کیا۔غریب خانہ پر تشریف لائیں۔ورنہ یہ ہو سکتا تھا کہ سہولت کے ساتھ دن کے وقت کسی وقت تشریف لے آتیں۔!! چوہدری فضل الہی صاحب حال موضع ملیا نوالہ تحصیل ڈسکہ سیالکوٹ سے تحریر فرماتے ہیں: جب ملک مولا بخش صاحب مرحوم گورداسپور میں کلرک آف دی کورٹ ( سیشن ج ) تھے ، حضرت ام المومنین ان کے ہاں گئیں۔وہاں حضرت ممدوحہ نے دریافت فرمایا کہ کسی نزدیکی گاؤں میں کوئی احمدی گھر بھی ہے۔ملک صاحب مرحوم نے ہمارے گھر کا پتہ دیا کہ موضع نبی پور میں جو گورداسپور سے قریباً ایک میل ہے۔دو گھر احمدیوں کے ہیں۔حضرت اُم المومنین نے اسی وقت ہمارے گاؤں میں آنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ میرے چھوٹے بھائی چوہدری عبدالواحد صاحب بی اے جواب نائب ناظر دعوت و تبلیغ ہیں کی راہبری میں حضور ہمارے گاؤں کی طرف پیدل چل پڑیں۔اور اچانک ہمارے گاؤں میں تشریف لے آئیں۔ہمارا گاؤں ایک چھوٹا سا گاؤں اور ہماری طرز رہائش دیہاتی اور بود و باش وغیرہ وہی پرانی دیہاتی وضع کی تھی میری والدہ (مرحومه مغفوره ) ایک پورانی وضع کی دیہاتی عورت شہری تمدن سے بالکل بے خبر تھی۔جب حضرت اُم المومنین کو دیکھا تو گھبرا گئی۔حضرت مدوحہ کو معہ دیگر مستورات کے جو غالبا ۱۲ کی تعداد میں تھیں۔چار پائیوں پر بٹھایا اور گھبراہٹ میں پانی وغیرہ پوچھنا بھی یادنہ رہا۔حضرت اُم المومنین میری والدہ سے خیر خیریت کی خبر دریافت فرماتی تھیں اور میری والدہ جواب کچھ اور دیتی تھی۔آخر والدہ صاحبہ کو یاد آیا کہ میں اماں جان کی کوئی خدمت کروں۔مگر دیہات میں کیا رکھا تھا۔شہر ایک میل تھا۔گھر میں کوئی سیانا آدمی نہ تھا۔بڑی متفکر ہوئیں۔حضرت اماں جان فرماویں کہ بڑی بی آؤ ہمارے پاس بیٹھ جاؤ مگر والدہ صاحبہ کو ہوش کہاں تھی۔آخر دماغ میں ایک ترکیب آگئی۔گھر میں باسمتی کے چاول تھے مگر دیکھنے پر وہ بھی