سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 119 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 119

119 یعنی (۱) اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اس کے آرام اور اچھے رزق کو لوٹایا۔(۲) میں نے اس کی طرف اس کے آرام کو اور اچھے رزق کو لوٹا دیا۔ان الہامات سے مترشح ہوتا ہے کہ اس میں خلافت کے اجراء کی طرف اشارہ ہے۔اور حضرت اماں جان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر مندرجہ بالا الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے تسلی دی تھی۔کہ خاندان مسیح موعود علیہ السلام پر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی وجہ سے یتیم و بے کس نظر آتا تھا۔اللہ تعالیٰ انوار و برکات روحانیہ پھر لوٹا دے گا۔اور خود کفیل ہو گا۔اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔حضرت اُم المومنین کو نہ صرف ابتدائی عمر ہی میں اللہ تعالیٰ نے رویائے صادقہ اور الہامات سے مشرف فرمایا۔بلکہ آپ کے وجود باجود کو بہت سی برکات اور نشانات کا مخزن اور منبع بھی بنایا۔چنانچہ آپ کے بطن مبارک سے جتنی بھی اولاد پیدا ہوئی۔وہ ساری کی ساری مبشر تھی۔اور ان میں سے ایک عظیم الشان نشان ” مصلح موعود کی صورت میں ظاہر ہوا۔( جیسا کہ حدیث نبوی علی يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُلَهُ میں بھی اشارہ ہے) صاحب رؤیا وکشوف حضرت اماں جان کے رویا و کشوف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔کہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اُم المومنین کا ایک رویا اپنی کتب میں درج فرمایا ہے۔کہ بشیر اول کی وفات کے بعد حضرت اماں جان نے رویا دیکھا کہ بشیر اول مرحوم آیا ہے اور آپ کو چمٹ گیا ہے۔اور آپ کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔لا افارقك بالسرعة “كراب میں آپ سے جلد جدا نہیں ہوں گا۔اس رویا سے جہاں بشیر ثانی کی لمبی عمر کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔وہاں حضرت اماں جان کی خارق عادت لمبی عمر پانے کی طرف بھی بالتصریح اشارہ موجود ہے۔چنانچہ آپ نے ۸۶ سال کی عمر پائی۔یہ ایک دو ہری بشارت تھی۔کہ ماں بیٹے کی مشترکہ عمر لمبی ہوگی۔چنانچہ ماں بیٹے کو ایک دوسرے کی رفاقت ۶۳ سال تک عطا کی گئی۔اس رویا کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام رد اليها روحها وریحانھا کے ساتھ ملانے سے واضح ہو جاتا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کے وجود باجود میں بہت سی برکات جمع