سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 104 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 104

104 نے بھی اُسے اُس نام کے ساتھ موٹا کہہ کر پکارا۔ایک دم مجھے پیچھے سے نہایت شیر یں لیکن بے حد بارعب آواز نے چونکا دیا۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کچھ فاصلے پر حضرت اماں جان کو کھڑے پایا۔فرمانے لگیں۔تمہیں معلوم ہے یہ بچہ یتیم ہے۔میں اس وقت اپنی کم عمری کی وجہ سے اس بات کو سمجھ نہ سکی۔کہ یتیم اور ”موٹے کا کیا تعلق ہے۔حضرت اماں جان سمجھ گئیں کہ یہ نہیں سمجھی۔فرمانے لگیں۔اللہ تعالیٰ یتیم کا دل دُکھانے سے سخت ناراض ہوتا ہے۔پھر ایسا نہ کرنا۔اس بچے کا نام دوسرے بچوں نے یونہی موٹا رکھ دیا ہوا ہے۔میرے دل پر اب تک اس واقعہ کا اثر ہے۔اللہ اللہ آپ کس قدر محبت کرتی تھیں یتیموں سے اور کتنی توجہ تھی آپ کی اس طرف کہ آپ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم پورا کریں۔اور پھر اپنے بچوں کی تربیت کا کس قدر خیال تھا حضرت اماں جان کو۔حضرت اماں جان کو اپنی تمام اولاد اور اولاد در اولاد کی تربیت کا خاص خیال رہتا تھا۔آپ نے ہمیشہ ہی نہایت اچھے رنگ میں ہم سب کی تربیت فرمائی مگر بایں ہمہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے کبھی بھی ہم میں سے کسی کو ڈانٹا ڈ پٹا ہو۔بلکہ اس کے برعکس نہایت مناسب رنگ میں نصیحت فرماتی تھیں۔حضرت اماں جان کو یتیموں سے اس درجہ محبت تھی کہ اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔آپ یتیموں کی دلجوئی کے لئے ہر وقت کوشاں رہتی تھیں۔قادیان میں ماموں جان مرحوم حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی زمیر نگرانی یتیم بچے دار الشیوخ میں پرورش پاتے تھے۔حضرت اماں جان کا دستور تھا کہ آپ اکثر وہاں سے یتیم بچوں کو اپنے پاس بلوالیتیں اور انہیں کھانا وغیرہ کھلوا کر نہایت محبت اور شفقت بھرے دل سے دعا دے کر رخصت کرتیں۔آپ کو یتیم بچوں کا اتنا خیال رہتا تھا کہ جب تک آپ اپنے دست مبارک سے کھانا تقسیم نہ کرتیں یا اپنے سامنے اُن کو کھاتے ہوئے نہ دیکھ لیتیں آپ بے چین رہتیں۔حضرت اماں جان کا گھر کے ملازمین سے اس قدر مشفقانہ سلوک تھا کہ اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔بسا اوقات ہمیں خیال گزرتا کہ حضرت اماں جان اُن سے بھی ہمارے برابر محبت کرتی ہیں اور اُن کا بھی ویسا ہی خیال رکھتی ہیں جیسا ہمارا۔بڑے سے بڑے قصور پر بھی آپ نے کسی ملا زم کو کبھی بُرا بھلا نہیں کہا اور بڑے سے بڑے نقصان پر بھی صرف إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہہ کر