سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 101 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 101

101 آہ پیاری اماں جان! رقم فرمودہ حضرت ام ناصر بنت حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب) موت ایک ایسی چیز ہے جو عزیز سے عزیز چیز کو بھی چھین لیتی ہے۔آج ہماری محبوب ماں حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا جن کا سایہ میرے لئے ہمیشہ سایہء ہما رہا، ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے پیارے مولائے حقیقی کے پاس چلی گئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔کئی عزیز بہنوں کی خواہش پر کہ آپ کوئی واقعات لکھ کر دیں چند واقعات لکھ رہی ہوں۔جو کہ میری ابتدائی زندگی یعنی جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں ۱۹۰۲ء میں بیاہی آئی۔اس کے متعلق لکھوں۔اُس وقت میں بچپن اور کم سنی کے دور میں سے گزررہی تھی۔میری عمر کا گیارھواں سال تھا جبکہ میری شادی ہوئی اور یہ شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش سے۔میرے والد صاحب ( ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ) نے حضور سے عرض کیا کہ لڑکی کی عمر بہت چھوٹی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ کوئی نہیں یا کوئی حرج نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان تھا کہ بچپن میں آنے کی وجہ سے میں نے اس نعمت کو پایا اور ان کی شفقت ، محبت اور دعاؤں سے مجھ پر انعام اور فضل نازل فرمایا۔شفقت و محبت آپ کی شفقت والدین سے بھی بہت بڑھ کر تھی حضور ہمیشہ نہایت پیار سے محمودہ کہہ کر بلاتے تھے۔جب میں شادی ہو کر پہلی دفعہ آئی تو میں حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ تین رات رہی۔آپ فرماتی تھیں کہ یہ بچہ ہے اداس ہو جائے گی۔پھر میں دوبارہ ایک سال کے بعد قادیان آئی ( کیونکہ میرے ابا جان کا تبادلہ رڑکی سے آگرہ ہو گیا تھا ) حضرت اماں جان کے پاس سوئی۔مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں گویا اپنی والدہ سے بھی زیادہ شفیق والدہ کے ساتھ سورہی