سیرت حضرت اماں جان — Page 299
299 روح کو آواز دے کر لے گئی روح ارم کلام مکرم ثاقب زیروی صاحب مرحوم ) چھیڑ کر مغموم کے میں ذکر اُم المومنین میری مایوسی میں کس نے تازہ آہیں گھول دیں دفعہ جو لانیوں کی گرم سانسیں رک گئیں شمع نور صبر و ہمت کی لویں تھرا اٹھیں آہ وہ شفقت بھرے لمحات - جو باقی نہیں اک بگولا انبساط جسم و جاں کو لے گیا جسم و جاں تو کیا نشاط جاوداں کو لے گیا مہدی آخر زماں کی ہم عناں کو لے گیا نازشِ بزمِ جہاں نصرت جہاں کو لے گیا درد کاسیلا ب جسم ناتواں کو لے گیا وہ محبت اور ارادت کے زمانے اب کہاں وہ تبرک کے لئے حیلے بہانے اب کہاں وہ رفاقت آفریں رنگیں ترانے اب کہاں جن کا ہر نقطہ حقیقت تھا فسانے اب کہاں جو خزف کو بھی ڈر نایاب جانے اب کہاں وقت کی بے مہریوں کا کھل گیا آخر بھرم ایک غم دے کر اجاگر کردیئے ہیں لاکھ غم بلبلاتے اور تڑپتے رہ گئے با چشم نم روح کو آواز دے کر لے گئی روح ارم تھم گئی کس مرحلے پر بارش لطف و کرم گل ہوئی شمع سکوں رنگِ وفا جاتا رہا اک وجودِ بے مثال و بے بہا جاتا رہا جس کا نام امید کا پیغام تھا جاتا رہا خلق کے روندے ہوؤں کا آسرا جاتا رہا جس پہ میری جان سوجاں سے فدا جاتا رہا لیکن اے شہر خوشاں کی مقدس سرز میں تو اظہارِ تفوق کا طریق اچھا نہیں ایسی آبادی کے منصوبے پہنتے ہیں کہیں جن کی بنیادیں ہوں چشم نم۔دل اندونگیں چومتی ہو اس لئے پاؤں کہ جھک جائے جبیں