سیرت حضرت اماں جان — Page 300
300 تیرے دامن میں نہاں ہیں سینکڑوں عالی وقار سیم تن لاکھوں کروڑوں گلبدن رنگیں غدار ایسے سطوت کوش نازاں جن پہ بزمِ روزگار تجھ سے خم کھا کرگزرتا ہے غرورِ شہر یار تیرے جھونکے زرد کر دیتے رہے روئے بہار اس فراوانی پہ بھی ہم سے یہ دولت چھین لی ان گنت بچوں سے ”امی“ کی محبت چھین لی کٹ رہی تھی جس کے بل بوتے پر غربت چھین لی جس کے خود حق نے کہا تھا ” میری نعمت چھین لی باپ نے بیٹوں کو جو دی امانت چھین لی دار ہجرت بے سرو سامانیاں گرداب غم ہر طرف امڈ چلا آتا ہے سیلاب سم یاس کی روش زدہ امن کی امید کی کم وقت کی چنون پڑھکیں چرخ کی گردن میں خم ہر زباں پر ہے ڈسا جمنے نہ پائیں اب قدم نشین یہ سبھی کچھ ہے مگر اے ساکن خلد بریں اے گلستانِ عدم آباد کی محفل تربت پہ آتی ہیں بصد عزم و یقین جن پر کھلی ہے تیری چشم جبیں وہ کسی در پر خدا کے بعد جھک سکتی نہیں 1