سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 279 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 279

279 بہت گھبراہٹ حضور کی تھی اور گھڑی گھڑی باہر آتے۔پھر دواد یتے لیکن اس کی وفات پر حضرت اماں جان کے حد درجہ صبر کا ذکر کر کے حضور بڑی دیر تک تقریر فرماتے رہے کہ قرآن شریف میں ہے کہ ان اللہ مع الصابرین جب صابروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معیت ہے تو اس سے زیادہ اور کیا چاہئے۔لڑکے کا فوت ہونا اور حضور کا تقریر کرنا ایک عجیب رنگ رکھتا تھا۔۱۶۹ مکرمہ سید فضیلت بیگم صاحبہ بنت حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب ۱۹۲۳ء میں میں پہلی دفعہ قادیان گئی۔ان دنوں بٹالہ سے قادیان تک گاڑی نہیں جاتی تھی۔یہ سفر بذریعہ بس یا تانگہ پر ہوتا تھا۔سڑک بہت خراب تھی۔ایک جگہ بس الٹ گئی۔قادیان خبر پہنچی تو شاید حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کوئی سواری بھیجی۔جب میں حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے حال پوچھا اور اس کے بعد میں ہر سال جلسہ سالانہ پر جاتی اس وقت ہمارے خاندان کے زیادہ افراد غیر مبائع تھے۔مگر حضرت اماں جان ایک ایک کا حال پوچھتیں۔سبحان اللہ اخلاق اس قدر بلند تھا کہ کبھی ان کے غیر مبائع ہونے پر اظہار افسوس نہیں کیا۔شاید کسی رنج و افسوس کا اظہار وہ جائز نہیں رکھتی تھیں۔آپ کے نورانی چہرہ پر ہمیشہ بشاشت رہتی۔کیسے کیسے جانکاہ صدمات آپ کو پہنچے۔جوان بھائی جن سے آپ کو بہت محبت تھی ان کی وفات کے صدمات کو کس طرح حوصلہ سے آپ نے برداشت کیا۔حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات سے چند ہی روز بعد میں قادیان تعزیت کے لئے گئی تو آپ کھانا کھانے لگی تھیں۔خندہ پیشانی اور مسکراہٹ کے ساتھ مصافحہ کیا اور کھانے میں شریک ہونے کو کہا۔جب آپ کھانا کھا چکیں تو میں نے حضرت میر صاحب کی وفات پر اظہار افسوس کیا۔آپ نے اسی مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا: جب وہ فوت ہوئے تو ان کی لڑکی نے والدہ سے آکر کہا امی انجام بخیر ہو گیا۔والدہ نے جواب میں کہا الحمدللہ ! اسب ٹھیک ہوا۔صبر و شکر کا نمونہ دکھا کر ہمیں خاموش کرا دیا۔پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔کہنے لگیں۔لڑکی مجھے تم پر سفید دو پٹہ اچھا نہیں لگتا۔میں نے عرض کیا۔اماں جان میں تو کئی سال سے سفید دو پٹہ ہی لے رہی ہوں۔فرمایا وہ اور بات ہے وہ چنا ہوا تو ہوتا تھا۔کتنا وسیع تھاما درانہ جذ بہ اور کتنی بے نظیر تھی شان صبر و حمل کہ مصائب کے پہاڑ ٹوٹے مگر ماتھے پر شکن نہ آئی اور منہ سے اُف نہ کی۔