سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 278 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 278

278 خواب اماں جان کو سنایا۔تو آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔آپ نے سرداراں جو آپ کی خادمہ تھی۔اُس کو پکارا اور فرمایا۔میرا قرآن شریف لے آؤ۔“ جب وہ قرآن شریف لائی۔تو آپ نے پڑھنا شروع کیا۔میں نے اسی وقت سوچا۔کہ خدا تعالیٰ نے دکھ درد کو دور کرنے کے لئے قرآن کریم کو کیا اکسیر بنایا ہے۔ہم کو بھی حضرت اماں جان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس چیز کو اپنا شعار بنانا چاہیئے۔۱۶۷ مکرمہ حمیده صابرہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب حضرت پھوپھی جان کی وفات پر آپ نے کہلا بھیجا کہ جب دہلی سے اُن کی میت آجائے تو مجھے اطلاع کر دینا صبح پانچ بجے بھائی جان رحمت اللہ نے جا کر اطلاع دی’ دہلی سے جنازہ آگیا ہے آپ فوراً تشریف لے آئیں۔حضرت والد صاحب کو اُن کا نام لے کر پکارا اور اپنی زبان مبارک سے اظہار افسوس کیا۔بار بار پھوپھی جان کا ذکر تعریفی رنگ میں فرما تھیں۔جنازہ گھر سے لے جانے کے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بعد تک میرے پاس ٹھہری رہیں اور دلجوئی کی باتیں فرماتی رہیں۔از حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا جب انتقال ہوا ہے۔تو آپ (سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام) باہر تشریف لائے میں موجود تھا۔فرمایا کہ لڑ کے حالت نازک تھی۔اس کی والدہ نے مجھ سے کہا کہ آپ ذرا اس کے پاس بیٹھ جائیں۔میں نے نماز نہیں پڑھی۔میں نماز پڑھ لوں۔فرمایا کہ وہ نماز میں مشغول تھیں کہ لڑکے کا انتقال ہو گیا۔میں ان خیالات میں پڑ گیا کہ جب اس کی والدہ لڑکے کے فوت ہونے کی خبر سنے گی تو بڑا صدمہ ہوگا۔چنانچہ انہوں نے سلام پھیرتے ہی مجھ سے پوچھا کہ لڑکے کا کیا حال ہے۔میں نے کہا لڑکا تو فوت ہو گیا۔انہوں نے بڑے انشراح صدر سے کہا کہ الحمد للہ میں تیری رضا پر راضی ہوں۔ان کے ایسا کہنے سے میرا غم خوشی سے بدل گیا۔اور میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تیری اولاد پر بڑے بڑے فضل کرے گا۔باہر جب آپ تشریف لائے ہیں تو اس وقت آپ کا چہرہ بشاش تھا۔کئی دفعہ میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ کسی کی بیماری کی حالت میں بہت گھبراتے تھے اور مریض کو گھڑی گھڑی دیکھتے اور دوائیں بدلتے رہتے تھے۔مگر جب وہ مریض فوت ہوجاتا تو پھر گویا حضور کو خبر بھی نہیں ہوتی تھی چنانچہ میاں مبارک احمد صاحب کی بیماری میں