سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 277 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 277

277 صبر ورضا، غموں کا مداوہ حوصلہ افزائی از اہلیہ ڈاکٹر گوہر دین صاحب میری ایک رشتہ کی ممانی بیوہ ہو گئیں۔لا ولد تھیں۔اور کوئی عزیز قریب بھی نہ تھا۔بس خاوند تھا۔جو فوت ہو گیا۔ہیوگی کے بعد مجھے ساتھ لے کر اماں جان سے ملنے آئیں۔اماں جان نے گلے سے لگایا۔اور فرمایا۔”ہائے تیری جوڑی بچھڑ گئی۔چہرہ پر سکون مگر یہ جملہ اس درد میں ڈوبا تھا۔کہ میں اس وقت کم عمری کے باوجود اس کی شدت محسوس کر رہی تھی۔اور آج بھی۔حضرت خلیفہ اول اور عبدالحی کی وفات پر میں نے آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔سوائے آنسوؤں کے باقی پر سکون و با وقار کیفیت تھی۔محترمہ امتہ الحفیظ بیگم کی شادی تھی۔کسی شاعر نے اس موقع پر سہاگ گیت پنجابی میں بنائے تھے۔جماعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد یہ پہلی تقریب کر رہی تھی۔میری بڑی ہمشیرہ آنمحتر مہ کی استانی تھیں۔رخصتانے کے روز وہ بھی وہاں تھیں۔ہنس کر فرمایا۔” پہلے حفیظ کی استانی کو تو دلہن بنالوں بیش قیمت دو پٹہ کے علاوہ گلے میں نہایت قیمتی جڑا اوزیور پہنایا۔۲۶) اہلیہ صاحبہ غلام نبی صاحب مصری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا صدمہ بہت بڑا صدمہ تھا۔لیکن جس طرح حضرت اُم المومنین نے اس کو صبر سے برداشت کیا۔اس کی مثال تاریخ عالم میں ملنی مشکل ہے۔جب کبھی آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد آتی تھی۔تو آپ کبھی صبر کا دامن نہ چھوٹنے دیتیں تھیں۔ایک دفعہ میں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی۔آپ اس وقت نواب صاحب کی کوٹھی کے درمیانی کمرہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت اُم المومنین بھی وہاں پر ساتھ تھیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا۔کہ حضور علیہ السلام نے جلدی واپس جانا ہے۔بچے اندر آتے جاتے اور سلام کہہ کر باہر نکل جاتے میں حضرت اماں جان کی خدمت میں عرض کی۔کہ میری بھی ملاقات کروادیں۔اس پر میری آنکھ کھل گئی۔میں نے یہ