سیرت حضرت اماں جان — Page 267
267 تھا۔مگر خاص کر موسم سرما کے آغاز پر آپ غرباء کے لئے کپڑے بڑے اہتمام سے تیار کروا کر تقسیم فرما تھیں۔اور موسم سرما کے کھانے مثلاً اس کی کھیر ہنگی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ پکوا کر غرباء کے گھروں میں بھجوا تیں۔مگر ویسے بھی آپ اکثر ہر موسم میں کھانے پکوا کرلوگوں کے گھروں میں بھیجتیں۔بعض اوقات آپ اپنے گھر پر بلوا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ڈال کر پلیٹیں غریب بچوں کے سامنے رکھتیں اور جب کھا نا ختم ہو جاتا تو آپ فرماتیں’ بچودُعا کرو۔۱۵۱۴ اپنے معاملات میں نہایت سادہ اور محتاط تھیں مکرمہ امۃ الرحیم صاحبہ بنت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی حضرت اماں جان اپنے معاملات میں نہایت سادہ اور محتاط تھیں لیکن ساتھ ہی اپنی خادمات پر اعتماد بھی کرتی تھیں۔حضرت ممدوحہ کے پاس سینکڑوں ہزاروں روپیہ لوگوں کی امانت پڑا رہتا تھا جس میں سے حسب ضرورت قرض بھی دیا کرتی تھیں چنانچہ میں نے حضرت ممدوحہ سے کئی بار ہزاروں روپیہ تک قرض لیا اور مقررہ وقت کے مطابق خداوند کریم ادا کرنے کی بھی توفیق عطا فرما تا رہا۔۱۵۲ حسن ظن از عزیز بخت صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا غلام رسول را جیکی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں حضرت اماں جان کے مکان میں ٹھہری ہوئی تھی اور ایک بابو صاحب کی بیوی بھی آپ کے مکان کے ایک حصہ میں ٹھہری ہوئی تھیں۔اُن کے ساتھ ایک نو جوان تھا جو بے حجاب ان کے پاس آتا جاتا تھا اور وہ اس سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔دو عورتوں نے حضرت اماں جان سے شکایت کی۔کہ بابو صاحب کی بیوی اس طرح اپنے نوکر سے پردہ نہیں کرتی اور بے تکلفی سے بات چیت کرتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ یونہی بدظنی کرنا اچھا نہیں۔ہوسکتا ہے کہ وہ اس کا رشتہ دار ہو۔پھر حضرت اماں جان نے اس عورت کو بلا کر دریافت فرمایا۔اس نے بتایا کہ میرا چھا جلد ہی فوت ہو گیا تھا۔یہ اس کا بالکل چھوٹا بچہ تھا جو ہمارے گھر میں پلا ہے اور میرا رشتہ دار ہے۔حضرت اماں جان نے معترض عورتوں کو اس سے اطلاع دی اور ان کو بدظنی کرنے سے منع فرمایا۔۱۵۳