سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 248 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 248

248 فرمایا۔میرا دل سرخ رنگ کا سویٹر پہننے کو چاہتا ہے۔میں نے کہا بہت اچھا اماں جان ! بنا دیتی ہوں۔جب سویٹر مکمل ہو گیا تو پہناتے وقت غلطی سے میں نے بائیں آستین چڑھانے کے لئے پہلے پیش کی۔آپ نے فرمایا۔نہیں پہلے دایاں پہناؤ۔مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۱۹۵۱ء میں جب اُونی کوئی آپ کو پہنانے لگی تو اتفاق سے پھر اسی غلطی کی مرتکب ہوئی۔آپ نے فرمایا۔لڑکی ! دایاں بازو پہلے پہنا کرتے ہیں۔اس پر مجھے سخت ندامت ہوئی کہ دائیں ہاتھ کی برکات جانتے ہوئے بھی یہ غلطی مجھ سے دو دفعہ سرزد ہو چکی ہے۔آپ کی عادت تھی کہ جب دوپٹہ کاڑھنے کے لئے دیتیں تو دھاگوں کے لئے پیسے ساتھ دیتی تھیں تا اپنی پسند کا دھاگہ لے سکوں۔فرماتیں بے شک اندازے سے زیادہ لے لیا کرو تا کہ کم ہو جانے کی صورت میں اور نہ منگوانے پڑے۔آخری اونی کوئی جو میں نے بنا کر آپ کو پہنائی ہے۔اس نمونہ کا ایک سویٹ نمائش کے لئے میں نے بنایا تھا۔جو حضرت اُم داؤ داحمد صاحب نے خریدا۔آپ کو یہ ڈیزائن پسند آیا۔فرمایا بغیر آستینیوں کے اس نمونے کا سویٹر بنا دو۔اُون لاہور جا کر خود خرید کر لانا۔لاہور سے واپسی پر میں پان لے کر حاضر ہوئی فرمایا: اون لے آئی ہو عرض کی جی فرمایا ” کتنے کی ہے“ میں نے ہنستے ہوئے عرض کیا۔”اماں جان اون تو بہت پیسوں کی ہے۔اصل قیمت تو کوئی بنا کر ہی بتا سکوں گی“ سن کر متبسم ہوئیں۔جب کوئی تیار کر کے پہنائی تو پھر پوچھا ” کتنے کی اُون لگی ہے اور ساتھ ہی ہوا اُٹھا کر پیسے نکالنے کے لئے اُسے کھولنا چاہا۔میں نے دونوں ہاتھ پکڑ لئے اور درخواست کی اماں جان! آپ میرے اور میرے والدین کے لئے دعا فرمائیں اور مجھے اپنا کوئی کپڑا تبرک دیں۔اس پر وہ پُرنور چہرہ متبسم ہوا اور فرمایا : اچھا، دو تین دن کے بعد میں پھر گئی اور کہا۔اماں جان آپ نے میرا قرضہ دینا ہے، مسکرا کر خاموش ہو گئیں۔دوسرے دن آپ نے اپنا ایک پھولدار وائل کا قمیض اور تین اونس اون میرے گھر بھیجی۔میں خدمت اطہر میں حاضر ہوئی اور پوچھا کہ ”اماں جان ! اون کا کیا بنانا ہے؟ فرمایا ” تمہارے لئے ہے۔۱۲۱