سیرت حضرت اماں جان — Page 247
ہے۔‘119 مکرم اخوند فیاض احمد صاحب بیان کرتے ہیں : 247 خاکسار کی والدہ صاحبہ (یعنی جواب بقید حیات ہیں اور خاکسار کی دوسری والدہ ہیں۔اور اس مضمون میں اپنی والدہ صاحبہ کا ہر جگہ ذکر ہے ) بیان کرتی ہیں کہ جب ان کی شادی کے موقعہ پر خاکسار کے ابا جی ان کو لینے کے لئے قادیان پہنچے تو حضرت اماں جان بھی اس تقریب پر رونق افروز تھیں۔سہ پہر کو آپ کی خدمت میں ناشتہ پیش کیا گیا۔تو آپ نے از راہ شفقت دلہن (یعنی والدہ صاحبہ ) کو بلوایا اور فرمایا کہ نئے گھر میں تم شرم کے مارے کچھ نہ کھاؤ گی۔اب یہ ناشتہ کھا لو تا کہ بھوکی نہ رہو اور اپنے سامنے والدہ صاحبہ کو بسکٹ کیک وغیرہ کھلائے اور اپنی چائے کی پیالی والدہ صاحبہ کو دے دی۔جس میں کچھ گھونٹ آپ نے چائے پی ہوئی تھی۔اور اپنے لئے دوسری پیالی میں چائے بنائی۔پھر آپ نے اباجی کو فرمایا خانصاحب ( یعنی خاکسار کے ابا جی ) کو میری طرف سے کہہ دو کہ یہ ( یعنی والدہ صاحبہ ) چائے کی عادی ہے۔اس کی چائے کا خیال رکھیں۔( کیونکہ خاکسار کی والدہ صاحبہ کشمیر اور گلگت کے علاقوں سے آئی ہیں) چنا نچہ ابا جی نے مدت العمران کے حسب عادت چائے کا خیال رکھا گو وہ خود چائے کے عادی یا شائق نہیں تھے۔اگر کبھی کسی وجہ سے ڈاکٹروں نے والدہ صاحبہ کو چائے سے پر ہیز کرنے کا مشورہ دیا۔تو ابا جی والدہ کو فرماتے کہ میں نہیں کہتا۔ڈاکٹر کہتے ہیں۔نیز حضرت اماں جان نے شادی پر خاکسار کی والدہ صاحبہ کو دوروپے عنایت فرمائے تھے۔۱۲۰ مکرمہ حمیدہ صابر ہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب قادیان کی بات ہے آپ نے ایک دو پٹہ اوڑھا ہوا تھا۔میں نے پوچھا۔اماں جان ! یہ کس نے بنایا ہے۔فرمایا بیٹی ! تمہارے سوا مجھے اور کون بنا کر دیتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی اور بہن نے کبھی ان کو دوپٹہ کاڑھ کر نہیں دیا تھا بلکہ کئی خواتین حضرت اماں جان کے لئے کاڑھے ہوئے دو پئے تحفہ لائیں۔آپ نے میری دلجوئی کے لئے یہ فقرہ فرمایا۔ایک دفعہ میں نے اور میری بڑی بھائی جان نے دو تین گھنٹے میں ایک دو پٹہ تیار کیا۔اور جب وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے اس کے اتنی جلدی بتانے پر اظہار خوشنودی فرمایا۔قادیان ، لاہور اور پھر ربوہ میں میں نے حضرت اماں جان کے لئے سویٹر بنے۔لاہور میں