سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 240 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 240

240 مکرم ایمن الله خان صاحب آف سلانوالی سرگودھا محلہ دارالرحمت میں ہمارا امکان ابھی زیر تعمیر تھا حضرت اُم المومنین تشریف لائیں اور مکان کی بناوٹ میں قدرے تبدیلی کرنے کا حکم فرمایا۔چنانچہ آپ کے ارشاد کے مطابق تبدیلی کی گئی۔حضرت اماں جان جب کبھی محلہ دارالرحمت کی طرف تشریف لاتیں تو عموماً ہمارے ہاں بھی تشریف لاتیں۔چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ تشریف لائیں تو والدہ مرحومہ چرخہ کات رہی تھیں۔آتے ہی فرمایا ' اٹھ نی بہتیاں پوتیاں والئے میں گہاں اس پر والدہ صاحبہ نے چرخہ چھوڑ دیا اور آپ نے اپنے دست مبارک سے چند پونیاں کا تیں۔واپسی پر والدہ نے کچھ تازہ مکھن پیش کیا جو آپ نے بخوشی قبول فرمایا اور بعد میں چارہ نوکر کے ہاتھ بھینس کے لئے بھجوایا کہ یہ اسی بھینس کے آگے ڈالنا جس کا میں مکھن لائی ہوں۔۱۰۷ اہلیہ صاحبہ مولانا محمد یعقوب صاحب انچارج زود نویسی ہاتھ سے کام کرنا بھی حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کو بہت مرغوب تھا اور کام کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوتی تھیں جب کہ میری عمر دس گیارہ سال کی تھی میں اپنی چھوٹی بھانجی کی گرم قمیص اپنے ہاتھ سے سی رہی تھی (اس وقت موتیوں کے کام کا بہت رواج تھا) اس پر موتی اور ستارے لگا رہی تھی۔اماں جان کو میری سلائی بہت پسند آئی اور فرمانے لگیں کہ اتنی عمر میں ایسی سلائی شاذ ہی کوئی کرتا ہوگا ، پھر فرمایا کہ اتنی پیاری قمیص کون پہنے گا۔میں عرض کیا کہ وہ سامنے جو بچی بیٹھی ہے۔دیکھ کر فرمانے لگیں واقعی لڑ کی اس قمیص کے قابل ہے۔“ مکرمه امۃ الرشید شوکت صاحبه بسا اوقات جب حضرت اماں جان ہمارے ہاں تشریف لاتیں تو والدہ صاحبہ کوئی نہ کوئی گھر کا کام کرنے میں مشغول ہوتیں۔مثلاً چولہے بنانا یا گندم صاف کرنا وغیرہ۔ایک دفعہ والدہ صاحبہ نے کہہ دیا کہ جس دن آپ تشریف لاتی ہیں اسی دن میرے یہی کام ہوتے ہیں۔تو فرمانے لگیں۔مجھے نکما آدمی بہت بُرا معلوم ہوتا ہے۔میں تو کام کرنے والے آدمی کو دیکھ کر خوش ہوتی ہوں۔اس میں شرم کی کیا بات ہے۔تمہاری عادت اچھی ہے کہ ہر وقت گھر کی صفائی اور کام کاج میں لگی رہتی ہو۔عام عورتوں کی طرح باہر نہیں جاتیں۔۱۰۸ مکرمه آمنه بیگم صاحبہ اہلیہ نیک محمد خان غزنوی حضرت اماں جان ہر ایک قسم کا کام اس حُسنِ ترتیب کے ساتھ کرتیں کہ ہم سب دیکھنے والے