سیرت حضرت اماں جان — Page 215
215 ہی کم کھانے والی عورت ہوں۔اس کے جواب میں حضرت اماں جان نے فرمایا۔کہ تم اپنے معدے کا علاج کرو۔اور تم بھی روزانہ سیر کیا کرو۔جس طرح میں سیر کرنے چلی جاتی ہوں۔اُس کے بعد ہم دونوں حضرت اماں جان سے رخصت لے کر اپنے گھر فضل منزل میں آگئیں۔۱۲ خوشی سے تحائف عطا کرنا اور قبول فرمانا مکرمہ امۃ الرحیم صاحبہ بنت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی آپ کھانے پینے کی اشیاء میں بہت سادگی پسند تھیں۔ہر حلال و طیب چیز کو رغبت سے استعمال فرماتی تھیں بالخصوص اگر کوئی چیز اخلاص و محبت سے پیش کرے تو اس کو بخوشی قبول فرماتیں اور دینے والے کی دلجوئی کا باعث بنتی تھیں یہاں تک کہ دیہاتی عورتیں جو معمولی قسم کی موٹی جھوٹی چیزیں دیہاتی چرخہ پر تیار کر کے لاتی تھیں اُن کو بھی بخوشی قبول کر کے اُن کیلئے باعث خوشی ومسرت ہوتی تھیں۔۶۳ مکرم شیخ عبد الحکیم صاحب احمدی یہ عاجز جب کبھی رخصت پر قادیان جاتا۔تو میرا معمول تھا۔کہ دہلی سے کچھ پان لے کر جاتا جو آپ از راه شفقت خوشی سے قبول فرماتیں اور فرماتیں یہ دہلی کا تحفہ ہے جو میرا میکہ ہے اور اکثر دروازه تک تشریف لاتیں اور جماعت کے تمام خاندانوں کے حال دریافت فرماتیں۔اور دریافت فرماتیں کتنی رخصت لے کر آئے ہو۔یہاں ہی قیام رہے گا۔یا کسی اور طرف بھی جانا ہے۔پھر فرما تھیں۔اس رخصت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دین سیکھیں۔کیا ہی ذرہ نوازی تھی اور ہر لمحہ ہماری تربیت کی فکر تھی۔یہ شفقت مادری جو میرے لئے جو کہ بوجہ احمدیت اپنے خاندان سے کٹ چکا تھا۔ایک ایسی ڈھارس تھی۔جسے میں بیان نہیں کر سکتا اور اب میں آپ کی رحلت سے اپنے آپ کو صحیح رنگ میں یتیم پاتا ہوں -۶۴ حضرت زینب بی بی صاحبہ جب میں پہلی دفعہ لاہور سے حضرت اماں جان گور بوہ میں آکر ملی تو میں نے کچھ چاول باسمتی اعلیٰ درجہ کے بطور تحفہ قبول کئے کیونکہ میں ایک بزرگ ہستی کو خالی ہاتھ ملنا پسند نہ کرتی تھی۔اس وقت ہماری مالی حالت ایسی تھی کہ میرے پاس اور کوئی چیز نہ تھی۔صرف یہی چاول تھے جو مجھے کسی نے