سیرت حضرت اماں جان — Page 171
171 مکرمہ امتہ الحمید بیگم اہلیہ قاضی محمد رشید آف نوشہرہ بیان کرتی ہیں تقریباً ۱۹۲۱ء کا واقعہ ہے کہ میں اور میری پھوپھی صاحبہ حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔میں نے اپنی پھوپھی کو ایک لیس بن کر دی ہوئی تھی جو انہوں نے قمیص پر لگائی ہوئی تھی۔حضرت اماں جان نے بھی اس لیس کو دیکھا اور پسند فرمایا۔اس پر میری پھوپھی صاحبہ نے بتایا کہ یہ میری بھتیجی امتہ الحمید نے بنائی ہے۔آپ نے فرمایا۔لڑکی! مجھے چادر کی لیس یا ایک میز پوش بن دو۔پھر آپ نے دھاگے کا ایک ڈبہ امرتسر سے منگوا دیا اور فرمایا۔گیارہ گزلیس بنا دو۔“ و غالبًا بی بی امتة السلام صاحبہ بنت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے جہیز کے لئے بنوائی تھی۔چنانچہ میں دھا گے لے گئی۔اس عرصہ میں حضرت اماں جان کشمیر تشریف لے گئیں اور میں بھی بیمار پڑ گئی۔اور حضرت اماں جان کی واپسی پر میں یہ لیس لے کر اُن کی خدمت میں حاضر ہوئی تو فرمایا۔تم نے چھ ماہ لگا دیئے ہیں۔چنانچہ میں نے اپنی بیماری کا ذکر کر کے معذرت کی سے دوسروں کی تکلیف کا احساس اہلیہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تحریر کرتی ہیں میرے بچے نعیم احمد کی پیدائش پر جب میں بیمار ہوگئی تو حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی کوشش سے ڈاکٹر صاحب مجھے کشمیر لے گئے۔وہاں حضرت اماں جان بھی خیمہ میں رہتی تھیں۔ہمارا خیمہ بھی قریب ہی تھا۔ایک دن سیر کرتے ہوئے ہمارے خیمہ میں تشریف لائیں۔میں اینٹوں کے چولہے پر چائے پکارہی تھی۔فرمانے لگیں اینٹوں کے چولہے پر کیوں پکار ہی ہو۔میں نے کہا اماں جان مجھے تو چولہا بنانا نہیں آتا۔دو دن کے بعد محلہ خان یار میں تشریف لے گئیں اور ایک چولہا لے آئیں اور خادمہ کے سر پر اٹھوا کر خود ساتھ تشریف لا کر فرمانے لگیں۔دیکھو بیگم میں خود جا کر تمہارے لئے محلہ خان یار سے چولہا لائی ہوں۔اس وقت میں ندامت سے آنکھیں نیچی کر کے کہا۔اماں جان آپ نے کیوں تکلیف فرمائی۔فرمانے لگیں تمہیں جو تکلیف تھی۔“ تاثرات مکرمه امۃ الرشید شوکت صاحبہ میری والدہ جو۳۱۳ صحابہ میں سے ایک مخلص صحابی حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی کی