سیرت حضرت اماں جان — Page 90
90 خدا تعالیٰ سے روروکر دعا کی کہ یہ شادی ہو جائے تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہو۔مجھے علم نہیں کہ یہ روایت کسی کتاب میں درج ہو چکی ہے یا نہیں مگر میرا خیال ہے کہ اس طور پر روایت کا درج ہونا مشکل ہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس وقت میرے اور اماں جان کے علاوہ کوئی اور شخص وہاں موجود نہ تھا۔صبر وشکر عزیز مبارک احمد جو ہمارا بھائی تھا کی وفات پر ہمارے گھر میں کوئی واویلا نہیں ہوا۔نہ لڑکوں میں نہ بچوں میں اور نہ ہی اماں جان نے کوئی واویلا کیا۔بلکہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اماں جان کو بتایا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔تو اماں جان نے کلمات شکر ورضا کا اظہار کیا۔اور کہا الحمد اللہ میں تیری رضا پر راضی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی وقت اپنا بستہ کھولا اور جماعت کے احباب کو تسلی دلانے کے لئے خطوط لکھنے شروع کئے۔جب آپ جنازہ پڑھا کر واپس آئے تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اماں جان نے کسی تیار کر کے حضور کی خدمت میں پیش کی حضور نے وہ لسی پی لی۔اور اس کے بعد پھر حضورا اپنے دوستوں کو خطوط لکھتے رہے۔اس کی تفصیل حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بیان کی ہے ) جس کے آخری الفاظ یہ ہیں: لیکن اس کی وفات پر حضرت اُم المومنین کے حد درجہ صبر کا ذکر کر کے حضور بڑی دیر تک تقریر فرماتے رہے۔کہ قرآن میں ہے۔ان الله مع الصابرین۔اور جب صابروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معیت ہے تو اس سے زیادہ اور کیا چاہیئے۔مبارک احمد کی وفات اور حضور ا تقریر کرنا اپنے اندر عجیب رنگ رکھتا تھا۔(اصحاب احمد جلد چہارم ص 116) مهمان نوازی ابتدائی زمانہ میں جب کہ مہمانوں کی تعداد بھی تھوڑی ہوتی تھی حضور مہمانوں کے ساتھ ہی کھانا کھایا کرتے تھے۔مسجد مبارک کے جانب شمال دیوار کے ساتھ دستر خوان بچھ جایا کرتا تھا۔اور اس