سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 78 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 78

78 حضرت اماں جان بلند اخلاق، اعلیٰ روحانیت اور غیر معمولی مقام توکل (نوٹ : حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے جلسہ سیرۃ حضرت اُم المومنین کے لئے ایک مضمون رقم فرمایا تھا۔اپریل ۱۹۵۲ء میں ربوہ میں جلسہ کے موقع پر پڑھا گیا۔ذیل کا مضمون اس مضمون سے قدرے مختلف ہے۔جو آپ کی تصنیف ”سیرۃ طیبہ میں بطور ضمیمہ شائع ہوا۔مرتب۔) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رقم فرماتے ہیں: کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک مختصر سا نوٹ حضرت اماں جان مرحومہ مغفورہ کے بلند اخلاق اور بلند مقام تو کل پر لکھا تھا۔سو اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ طیبہ پر ایک رسالہ چھپ رہا ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ مختصر سا نوٹ بھی ضمیمہ کے طور پر اس کے ساتھ شامل کر دیا جائے تا کہ جس طرح دنیا میں یہ بزرگ ہستیاں ایک دوسرے کی رفیق حیات تھیں اسی طرح اس ذکر خیر میں بھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں اور میرے دل و دماغ بھی اس معنوی رفات سے سکون و راحت پائیں۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا، اپریل ۱۹۵۲ء میں فوت ہوئی تھیں۔اس عرصہ میں مجھے کئی دفعہ اُن کی سیرۃ کے متعلق کچھ لکھنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر ہر دفعہ جذبات سے مغلوب ہوکر اس ارادہ کو ترک کرنا پڑا۔اب بعض احباب کی تحریک پر ذیل کی چند سطور لکھنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔وَاللهُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُسْتَعَانُ آپ کی شادی خاص الہی تحریک کے ماتحت ہوئی حضرت اماں جان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اُن کی شادی خاص المی تحریک کے ماتحت ہوئی تھی۔اور دوسرا امتیاز یہ حاصل ہے کہ یہ شادی ۱۸۸۴ء میں ہوئی