سیرت حضرت اماں جان — Page 44
44 کیا گیا تھا جو نہایت تندہی کے ساتھ خدمت میں لگے رہے۔بالآخر ۲۰ را پریل ۱۹۵۲ء کی صبح کو ساڑھے تین بجے کے قریب دل میں ضعف کے آثار پیدا ہوئے جو فوری علاج کے نتیجہ میں کسی قدر کم ہو گئے مگر دن بھر دل کی کمزوری کے حملے ہوتے رہے۔اس عرصہ میں حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے ہوش وحواس خدا کے فضل سے اچھی طرح قائم رہے۔صرف کبھی کبھی عارضی غفلت سی آتی تھی جو جلد دور ہو جاتی تھی۔ہمیں تاریخ کی شب کو پونے نو بجے حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا نے دل میں زیادہ تکلیف محسوس کی۔اس کے ساتھ ہی تنفس بگڑنا شروع ہو گیا اور نبض کمزور پڑنے لگی۔صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے خود ہی ٹیکے وغیرہ لگائے۔مگر کوئی افاقہ کی صورت پیدا نہ ہوئی۔اس وقت حضرت اماں جان نے خود اپنی زبان سے فرمایا۔کہ قرآن شریف پڑھو۔چنانچہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ کے چھوٹے صاحبزادے میر محمود احمد صاحب نے قرآن شریف پڑھ کر سنایا۔اس وقت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا۔دعا کریں۔چنانچہ حضو را یدہ اللہ تعالیٰ نے بعض قرآنی دعائیں کسی قدر اونچی آواز سے پڑھیں۔اور دیر تک پڑھتے رہے۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خود حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا بھی دعا میں مصروف ہیں۔آپ کی نبض اس وقت بے حد کمزور ہو چکی تھی۔بلکہ اکثر اوقات محسوس تک نہیں ہوتی تھی۔لیکن ہوش و حواس بدستور قائم تھے۔اور کبھی کبھی آنکھیں کھول کر اپنے اردگر دنظر ڈالتی تھیں۔اور آنکھوں میں شناخت کے آثار بھی واضح طور پر موجود تھے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے تھوڑے عرصہ کے لئے ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت باہر تشریف لے جانے پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ حضرت اماں جان کے سامنے بیٹھ کر دعائیں کرتے رہے۔اس وقت بھی حضرت اماں جان آنکھ کھول کر دیکھتی تھیں۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا۔کہ دعا میں مصروف ہیں۔دیگر عزیز بھی چار پائی کے اردگرد موجود تھے۔اور اپنے اپنے رنگ میں دعائیں کرتے اور حسب ضرورت خدمت بجالاتے تھے۔سوا گیارہ بجے شب کے بعد حضرت اُم المومنین نے اشار تا کروٹ بدلنے کی خواہش ظاہر فرمائی۔لیکن کروٹ بدلتے ہی نبض کی حالت اور زیادہ گرگئی۔اور چند منٹ کے بعد تنفس زیادہ