سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 39 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 39

39 66 موجودہ امام مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی والدہ ہیں۔جنازہ کل ۵ بجے ربوہ میں ہو گا۔“ سال رواں کے آغاز سے ہی آپ کی طبیعت بہت ناساز چلی آتی تھی۔چنانچہ آپ نے چلنا پھرنا عملاً متروک کر دیا تھا۔اور آپ عموماً بستر میں ہی رہتی تھیں۔وسط فروری سے کمزوری بڑھنے لگی۔نیز شروع مارچ سے بخار بھی رہنے لگا۔اور خوراک بہت کم ہوگئی۔اگر چہ بخار اتر جاتا تھا۔لیکن کمزوری بدستور رہی۔مارچ کے آخر میں بیماری نے تشویش ناک صورت اختیار کر لی۔کمزوری بہت زیادہ ہوگئی جس کا کسی قدر دل پر بھی اثر ظاہر ہونے لگا۔کبھی اسہال اور کبھی قبض کی صورت پیدا ہو جاتی نیز گاہے گاہے قے کی شکایت بھی ہونے لگی۔نقاہت کے باعث بعض اوقات غنودگی کی سی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔ڈاکٹری معائنہ سے معلوم ہوا کہ گردے میں سوزش ہوگئی ہے بعد میں یوریمیا کی علامات نمایاں تر ہوتی گئیں اور اسہال شروع ہونے کی وجہ سے کمزوری پہلے کی نسبت اور زیادہ بڑھ گئی۔نیز خون کا دباؤ گرنا شروع ہو گیا۔اپریل کے دوسرے ہفتہ میں بیماری نے اور زیادہ تشویش ناک صورت اختیار کر لی۔سانس بے قاعدہ اور رک رک کر آنے لگا۔اگر چہ بعد میں دل کی حالت کسی قدر بہتر ہو گئی لیکن عام طور پر سانس میں بے قاعدگی کی شکایت رہی۔اور ضعف میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔۱۵ را پریل سے نیم بے ہوشی کی حالت طاری رہی ۱۸ را پریل کو رات سخت بے چینی میں گزری۔بخار ۱۰۲ درجہ سے بھی بڑھ گیا۔وقتاً فوقتاً کپکپی بھی طاری ہوتی رہی۔۱۹ اپریل کو رات نسبتا آرام سے گزری لیکن دل کی حرکت اور نفس کی حالت بدستور رہی بالآخر ۲۰ را پریل کی شب کو ساڑھے گیارہ بجے الہی مقدرات کے تحت وہ معین گھڑی آ پہنچی کہ جب آپ کی پاک روح قفس عنصری سے پرواز کر کے جنت النعیم میں مولائے حقیقی سے جاملی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون ۵