سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 35 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 35

35 تیمار داری کرنے والے چونکہ ایسے سخت بیمار کے پاس لوگوں کا جمگھٹا بھی مناسب نہیں ہوتا اس لئے اپریل ۱۹۵۲ء کے پہلے ہفتہ سے سب کی ڈیوٹیاں لگادی گئی تھیں تا کہ باری باری سب کو خدمت کا موقع مل جائے۔لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو چوبیس گھنٹے وہیں رہتے اور ڈیوٹی ادا کرتے تھے۔ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب اکثر اماں جان کے گھر رہتے۔نیز خاکسار، صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب عزیز میرمحمود احمد صاحب، مرزا حنیف احمد صاحب، میر داؤ د احمد صاحب بھی ہر وقت حاضر رہتے۔مستورات میں سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ( جو چوبیس گھنٹہ حضرت اماں جان کے کمرہ میں ہی رہتی تھیں ) سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سیدہ ام متین صاحبہ، سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ ، ہماری تینوں ممانی جان ( یعنی حضرت اماں جان کی بھاو جیں ) صاحبزادی منصورہ بیگم صاحبہ، صاحبزادی امتہ المجید بیگم بسیدہ طیبہ بیگم نیز طاہرہ بیگم بیماری کے شروع ایام میں تو خاندان میں سے تھیں اور ان کے علاوہ آمنہ بیگم ( جن کو حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے ہی بچپن سے پرورش کیا تھا ) اہلیہ مکرم نیک محمد خان صاحب عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم حمد المعیل صاحب سابق خادم لنگر خانہ (بچپن سے پرورش کردہ حضرت اماں جان اور مسلسل خدمت کرنے والی رہی ہیں۔اماں جان ان دونوں سے بہت محبت فرماتی تھیں ) اور رضیہ بیگم نرس نور ہسپتال ( جو نذیر احمد صاحب مبلغ افریقہ کی بھانجی ہیں ) تھیں۔اور جیسا کہ پہلے لکھ آیا ہوں مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب بھی اکثر وقت حضرت اماں جان کے پاس حاضر رہے۔بلکہ زیادہ خراب حالت میں بعض راتیں بھی وہیں سوۓ۔فـجــزاهـم الـلـه اجـمـعـين احسن الجزاء فی الدارین۔ان کے علاوہ خاندان کے دوسرے افراد بھی اپنے وقت میں ڈیوٹی ادا کرتے رہے۔میں مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب کا بھی بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے حضرت اماں جان کی بیماری میں ہر ممکن کوشش اور امداد آپ کے علاج کے لئے ہم پہنچائی۔فجزاه الله احسن الجزاء في الدارين