سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 24 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 24

24 سے بعض کمزور طبیعتوں میں تکلف یا ریاء وغیرہ کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے ساتھ ہی یہ تجویز بھی کی گئی کہ کسی کی رقم نوٹ نہ کی جائے۔بلکہ جو تم کوئی عزیز اپنے حالات کے ماتحت شرح صدر سے دے سکے وہ نوٹ کرنے کے بغیر خاموشی کے ساتھ اس تھیلی کے اندر ڈال دے۔جو اس غرض کے لئے صدقہ کی رقوم وصول کرنے والے عزیز کے سپرد کی گئی تھی۔تا کہ ایسے نازک موقعہ پر کوئی رنگ تکلف و غیرہ کا نہ پیدا ہو۔بلکہ جو کچھ دیا جائے۔خالص و پاک نیت کے ساتھ صرف خدا کی رضا کی خاطر دیا جائے۔دوسری شرط یہ لگائی گئی۔کہ اس صدقہ کے لئے خاندان کا ہر فرد کچھ نہ کچھ رقم ضرور دے خواہ وہ ایک پیسہ یا ایک دھیلہ ہی ہو۔تا کہ کوئی مرد یا عورت یا لڑکا یا لڑ کی حتی کہ دودھ پیتے تک بچہ بھی اس صدقہ کی شمولیت سے باہر نہ رہے۔چنانچہ ان شرائط کے ماتحت صدقہ کی رقم جمع کی گئی۔جو مستحق غرباء میں تقسیم کی جارہی ہے۔بے شک یہ درست ہے کہ اسلام نے اپنی عبادتوں اور دعاؤں اور صدقوں میں ظاہر اور خفی ہر دو قسم کا طریق مد نظر رکھا ہے۔کیونکہ ان ہر دو میں بعض حکیمانہ فوائد کا پہلو مقصود ہے۔لیکن کم از کم جہاں تک صدقات کا تعلق ہے اسلام نے ظاہر کی نسبت مخفی طریق کو زیادہ پسند کیا ہے کیونکہ ایک تو جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں اس طریق پر صدقہ کی رقوم جمع کرنے میں تکلف وغیرہ کا رنگ پیدا نہیں ہوتا۔جس سے بچ کر رہنا ایسے نازک موقعوں پر از بس ضروری ہے۔اور دوسرے اس طرح صدقہ کی رقم تقسیم کرنے میں لینے والا بھی احساس کمتری کی پست خیالی سے محفوظ رہتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: (سوره البقرۃ:۲۷۲) ان تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنَعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَآءُ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ یعنی اگر تم اپنے صدقات کھلے طور پر دو۔تو یقیناً یہ بھی ایک نیکی کا کام ہے۔لیکن اگر تم چھپ کر خاموشی کے ساتھ غرباء کی امداد کرو۔تو یہ اس سے بھی زیادہ بہتر حل ہے کیونکہ اس ذریعہ سے تمہاری بعض کمزوریوں پر خدا کی مغفرت کا پردہ پڑا رہتا ہے۔“ دوسری جگہ دعا کے تعلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً (اعراف: ۵۶) د یعنی اپنے رب کو طبعی رقت کی حالت میں ظاہر طور پر یا خاموشی کے ساتھ خفیہ طور پر ہر دو طرح