سیرت حضرت اماں جان — Page 293
293 قادیان سے باہر آنا پڑا۔اب میری عمر اسی سال سے اوپر ہے۔اور میں نہیں کہہ سکتی کہ خدا کی تقدیر میں آئندہ کیا مقدر ہے۔مگر بہر حال میں اپنے خدا کی تقدیر پر راضی ہوں اور یقین رکھتی ہوں کہ خواه درمیانی امتحان کوئی صورت اختیار کرے قادیان انشاء اللہ جماعت کو ضرور واپس ملے گا۔مگر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو موجودہ امتحان کو صبر اور صلوۃ کے ساتھ برداشت کر کے اعلیٰ نمونہ قائم کریں گے۔چند دن سے قادیان مجھے خاص طور پر یاد آرہا تھا شاید اس میں جلسہ سالانہ کی آمد آمد کی یاد کا پر تو ہو یا آپ کی اس دلی خواہش کا مخفی اثر ہو کہ میں آپ کے لئے اس موقعہ پر کوئی پیغام لکھ کر بھجواؤں۔سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ جماعت ایمان اور اخلاص اور قربانی اور عمل صالح میں ترقی کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش اور دعا کے مطابق میری جسمانی اولاد کا بھی اس ترقی میں وافر حصہ ہو۔آپ لوگ اس وقت ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جو خالصاً روحانی ماحول کا رنگ رکھتا ہے۔آپ کو یہ ایام خصوصیت کے ساتھ دعاؤں اور نوافل میں گزارنے چاہئیں اور عمل صالح اور باہم اخوت و اتحاد اور سلسلہ کیلئے قربانی کا وہ نمونہ قائم کرنا چاہئیے جو صحابہ کی یاد کو زندہ کرنے والا ہو۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین ثم آمین۔“ ( وشخط) أم محمود ام المومنین۔رتن باغ۔لاہور ۱۲ دسمبر ۱۹۴۸ء حوالہ جات ے ماہنامه درویش قادیان جون جولائی ۱۹۵۲ء صفحه ۲۶- ۲۵ ۲ الفضل لا ہور۴ جون ۱۹۵۲ء صفحه ۲