سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 280 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 280

280 میں نے یہ انتہائی رنج کے الفاظ اُن کے منہ سے سنے کہ وہ ضعیفی کی وجہ سے خاطر خواہ عبادت نہیں کر سکتیں۔واقعہ یوں ہے کہ میں جب قادیان جاتی تو میری بڑی خواہش ہوتی کہ بیت الدعا میں نماز پڑھوں۔پہلی بار جب میں نے اماں جان سے پوچھا کہ بیت الدعا میں نماز ادا کرلوں۔‘“ تو آپ حسب عادت ہنس دیں اور فرمایا۔”ہم نے کوئی ٹیکس نہیں لگایا ہوا۔‘ لے مکرم شیخ محمد احمد پانی پتی حضرت اُم المومنین کی ایک نمایاں خصوصیت مصائب پر صبر کرنا تھی۔سب سے پہلے آپ کو اپنی سب سے پہلی لڑکی عصمت کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔مگر آپ نے اس موقع پر کوئی کلمہ جزع فزع کا منہ سے نہ نکالا۔اور خدائی تقدیر پر شاکر وصابر رہیں۔صاحبزادی عصمت کے بعد بشیر اول کی وفات ہوئی۔مگر اس موقع پر بھی آپ نے کامل صبر کا نمونہ دکھایا۔حب بشیر اول پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنی نماز کیوں قضا کروں؟ چنانچہ اس حالت میں آپ نے وضو کر کے نماز شروع کر دی۔نماز کے دوران میں اس کی وفات ہوگئی۔نماز پڑھنے کے بعد آپ نے بچہ کی حالت دریافت فرمائی۔جب آپ کو بتایا کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔تو آپ اناللہ وانا اليه راجعون کہہ کر خاموش ہوگئیں۔کیا کہیں ایسی مثال دنیا میں مل سکتی ہے کہ کوئی ماں اپنے بچہ کو نزع کی حالت چھوڑ کر اپنے خدا کی عبادت کے لئے کھڑی ہو جائے ؟ اس کے بعد صاحبزادی شوکت اور صاحبزادی امتہ النصیر فوت ہوگئیں۔مگر کسی موقع پر بھی آپ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُم المومنین کو صاحبزادہ مرزا مبارک احمد سے انتہائی درجہ کی محبت تھی اور اس کی بیماری کے ایام میں کوئی دقیقہ اس کے علاج معالجہ میں فروگذاشت نہیں کیا گیا تھا۔لیکن جب تقدیر الہی سے وہ بھی فوت ہو گیا تو حضرت اُمّم المومنین نے انا للہ وانا اليه راجعون کہنے کے بعد فرمایا: میں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں“ جب خدا تعالیٰ نے اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے اس عظیم الشان صبر کو دیکھا تو اس نے اپنے پیارے مسیح علیہ السلام پر نازل فرمایا: خدا خوش ہو گیا