سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 268 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 268

نور فراست 268 مکرم سید غلام حسین شاہ صاحب۔بھلوال سرگودھا ۱۹۳۳ء میں بندہ ضلع رہتک میں ویٹرنری ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھا۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ وہاں سول سرجن تھے۔حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئی ہوئی تھیں۔میری لڑکی سیدہ محمودہ خاتون اپنی چھوٹی بہن سیدہ مبارکہ کو ساتھ لے کر حضرت اُم المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئی تو حضرت اُم المومنین نے سیدہ مبارکہ کے چہرے کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ اس لڑکی کے چہرے سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک دن استانی بنے گی۔اُس وقت مبارکہ ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔خدا کی قدرت عزیزہ مبارکہ ایف اے پاس کر کے بھوپال کے گرلز سکول میں استانی ہو گئی۔بعد ازاں اُس نے بی۔اے تک تعلیم حاصل کر لی تو اسکی شادی ہوگئی۔شادی کے بعد آجکل بھی وہ استانی کا کام گرلز سکول میں کر رہی ہے اور بہت کامیاب استانیوں میں سے ہے۔یہ واقعہ آپ کی فراست کا مظہر ہے۔۱۵۴ مکرمه سیده فضیلت بیگم صاحبہ بنت حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب میری پہلی ملاقات حضرت اُم المومنین سے غالباً ۱۹۱۶ء یا ۱۹۱۹ء میں سیالکوٹ میں اپنی ماموں زاد بہن سیدہ نعیمہ بنت حضرت سید حامد شاہ صاحب مرحوم کی شادی پر ہوئی۔جب آپ تشریف لائیں تو میں پیشوائی کے لئے سیڑھیوں پر کھڑی تھی۔میری طرف نظر پڑتے ہی آپ نے اہلیہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سے جو آپ کے ہمراہ تھیں پوچھا ”یہ تحصیلت علی شاہ کی لڑکی ہے؟ جب انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ” میں نے آنکھوں سے پہچانا ہے مجھے آپ کی ذہانت پر حیرت ہوئی۔کیونکہ میرے والد سید فصیلت علمی صاحب مرحوم کو فوت ہوئے اس وقت کم از کم سولہ سال گزر چکے تھے جب وہ فوت ہوئے میں تین سال کی تھی۔اس سے پہلے نہ ان کی زندگی میں اور نہ بعد ہی آپ نے مجھے کہیں دیکھا تھا۔والد صاحب بے شک ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے۔مگر ملازم پیشہ تھے اور پھر سلسلہ کے ابتدائی زمانہ میں آپ کی وفات ہوگئی تھی۔کچھ عرصہ مستقل طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہنے کا کوئی امکان ہی تھا کہ اماں جان کو انہیں متعدد بار دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو۔اب سوائے اس