سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 253 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 253

253 کر کے فرمایا کرتیں۔ڈاکٹر کی بیوی ، ڈاکٹر کی ماں ڈاکٹر کی بھاوج ، ڈاکٹر کی سالی۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھوڑی دیر آپ کے پاس ٹھہرنے کے بعد میں حضرت آپا جان اُمّم ناصر احمد صاحب کی طرف جارہی تھی کہ حضرت اماں جان نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔حمیدہ ! استانی حمیدہ ، فیض علی کی بیٹی حمیدہ ، احسان علی کی بہن حمیدہ۔میں ہنستی ہوئی دوبارہ خدمت اقدس میں حاضر ہو گئی ۱۲۸ علمی ذوق و شوق مکرمہ حمیده صابرہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب حضرت اماں جان بڑی علم دوست تھیں۔آپ کو کتابیں سننے کا بہت شوق تھا۔آپ بڑی توجہ سے سنتیں اور ساتھ ساتھ غلط تلفظ کو درست فرماتیں اور معنے بتاتی جاتیں۔مجھے بہت مرتبہ آپ کو کتابیں سنانے کا موقع ملا۔ایک دفعہ ایک کتاب میں نے درمیان سے پڑھ کر سنانی شروع کی یعنی اُس کا شروع کا حصہ آپ کسی اور سے سن چکی تھیں۔میں نے دو چار صفحے پڑھے۔مگر قصہ کے ابتدائی حصہ سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اُس کے کردار کو اچھی طرح نہ سمجھ سکی اس لئے آپ نے مجھے شروع سے لے کر سارا قصہ سنایا اور پھر بقیہ کتاب میں نے پڑھ کر سنائی۔اس واقعہ کے بیان سے اس امر کا پتہ چلتا ہے کہ آپ کو صرف اپنا شوق پورا کرنا ہی مقصود نہ ہوتا تھا بلکہ سنانے والے کی خاطر بھی منظور ہوتی تھی۔تا وہ بھی اس میں پوری دلچسپی لے سکے۔ایک دفعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے ایک کتاب پڑھنے کے لئے دی۔وہ دن مجھے حضرت اماں جان کے حضور گزارنے کا موقع مل گیا۔ظہر کی نماز کے بعد میں نے وہ کتاب آپ کو سنانی شروع کی۔درمیان میں عصر کی نماز کے لئے اُسے چھوڑا اور شام سے قبل اُسے ختم کرلیا۔حضرت اماں جان نے کہیں باہر جانا تھا آپ تیار ہو کے بیٹھی رہیں کہ کتاب ختم ہوتو تشریف لے جائیں۔کتاب ختم کرنے کے بعد میں نے ایک چھوٹا سا نوٹ حضرت میاں صاحب کی خدمت میں لکھ کر وہ کتاب واپس کر دی کہ حضرت اماں جان کو یہ کتاب سنانے کی مجھے سعادت ملی ہے۔