سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 252 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 252

تھی۔۱۲۶ 252 محترمہ آمنہ بیگم اہلیہ نیک محمد خان غزنوی حضرت اُم المومنین کو خاموشی کسی وقت بھی پسند نہ تھی۔آپ ہر وقت اپنی مجالس کو بار وفق پسند فرماتیں۔عام طور پر آپ کی مجالس میں اللہ تعالیٰ کا ہی ذکر اذکار ہوتا۔کبھی لطائف اور کہانیاں دوسروں سے سنتیں اور خود سنا تھیں۔امتہ اللہ اہلیہ صاحبہ خان میر خان صاحب اکثر آپ کی خدمت میں رہتیں۔آپ نے بچپن سے ان کا نام ” لال پری مخصوص فرمایا ہوا تھا۔پہلے تو اکثر ہی مگر اب بھی جبکہ آپ بہت کمزور ہو چکی تھیں جب بھی لال پری صاحبہ آپ کی خدمت میں آتیں تو حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا فرماتیں لال پری خاموش کیوں بیٹھی ہو کچھ بولو تو وہ اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فارسی کی نظمیں یا حضرت امیر المومنین کی نظمیں یا پھر کبھی پنجابی کے قصے سناتیں تو آپ بہت خوش ہوتیں۔غرضیکہ آپ کی مجلس ہمیشہ با رونق رہتی۔۱۲۷ مکرمہ حمیده صابرہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب حضرت اماں جان ادام اللہ فیوضبا غریبوں اور ضرورت مندوں کا بہت خیال رکھتی تھیں اور ان کی مددفرماتیں۔آپ کے جو دو کرم کی بہت سی روایات ہیں۔آپ ظاہری طور پر بھی مددفرماتی تھیں اور پوشیدہ طور پر بھی۔آپ نے کئی غریب و یتیم لڑکیوں کی پرورش کی۔اُن کی ماؤں سے بڑھ کر ان کی تربیت کی۔اور پھر اُن کے بیاہ کئے کئی لڑکے اور لڑکیوں کا تعلیم کا خرچ برداشت کیا۔آپ حد سے زیادہ خوش اخلاق تھیں اور خوش طبعی بھی آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ایک دفعہ میری بہن عزیزہ امتہ الحفیظ سلمہا اللہ نے دہلی سے حضرت والدہ صاحبہ کے ہاتھ حضرت اماں جان کے لئے ایک جوتی بھیجی۔جب میری والدہ صاحبہ نے آپ کی خدمت میں پیش کی تو اتفاق سے آپ کو اُس جوتی کا ڈیزائن زیادہ پسند آیا جو میری والدہ صاحبہ نے پہنی ہوتی تھی۔فرمایا مجھ سے یہ جوتی بدل لو۔عورتیں دوپٹہ بدل کر بہنیں بنتی ہیں ہم جو تیاں بدل کر بہنیں بن جائیں۔والدہ صاحبہ نے عرض کیا میری اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہوسکتی ہے۔آپ سوچیں تو سہی کس قدر وسیع اخلاق کی مالک تھیں وہ خاتون۔آپ نے اپنی ایک خادمہ کی مستعمل جوتی پہنے میں عار نہیں فرمایا اور اپنی نئی جوتی میری والدہ صاحبہ کو پہنا دی۔کیا اس قسم کی مثال کہیں اور بھی مل سکتی ہے۔اسی طرح اکثر خوش طبعی سے آپ والدہ صاحبہ محترمہ کو مخاطب