سیرت حضرت اماں جان — Page 251
251 میری شادی کے موقع پر دوبار ہمارے گھر تشریف لائیں۔میری چھوٹی بہن کی شادی پر بھی ہمارے غریب خانہ پر تشریف لائیں۔عورتیں خاموش بیٹھی ہوئی تھیں آپ نے آتے ہی کہا کہ چُپ چاپ کیوں بیٹھی ہو ، گاتی کیوں نہیں۔میں نے خود دیکھا کہ آپ شادی و بیاہ کی مجلسوں میں خاموش رہنا پسند نہیں فرماتی تھیں۔بلکہ چہل پہل اور روافق سے آپ کو خوشی ہوتی۔ایک صاحبزادی کی شادی کے موقع پر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اپنے اردگرد بیٹھی ہوئی عورتوں کو کچھ سُنانے کے لئے کہا اور فرمانے لگیں کہ اگر تم نہیں پڑھوگی تو میں خود پڑھوں گی۔اس کے بعد شعر خود بھی سُنائے اور پڑھنے والی کی غلطیوں کو بھی درست فرمایا۔۱۲۴ خوش مزاجی اور خوش خلقی امتہ الحمید بیگم اہلیہ قاضی محمد رشید صاحب آف نوشہرہ محترمہ سکینہ بیگم صاحبه دکاندار اہلیہ شیخ نور الدین صاحب کی بڑی لڑکی کی شادی تھی۔وہ میری سہیلی تھی۔چنانچہ میں اس موقع پر ان کے گھر گئی۔وہاں حضرت اماں جان بھی تشریف فرما تھیں۔اور لڑکیوں کو چپ چاپ بیٹھے دیکھ کر فرمایا: "لڑکیو ! گیت کیوں نہیں گاتیں۔“ اس پر لڑکیوں نے گیت گائے۔بعد ازاں حضرت اماں جان نے آمنہ کی انگلی میں انگشتری پہنائی اور دعا کی۔۱۲۵ محترمہ امۃ الرشید شوکت صاحبه میری والدہ محترمہ ایک دن میری بھابھی کے ساتھ انگوروں کی ایک پلیٹ لے کر گئیں۔آپ نے نهایت خندہ پیشانی سے اس حقیر تحفہ کو قبول کیا اور ہنس کے فرمایا کہ ”ہم تو پلیٹ بھی نہیں دیا کرتے، اس کے بعد خادمہ کو بلا کر کہا کہ یہ انگور رکھ لو اور پلیٹ صاف کر کے لاؤ۔اتنی عمر میں آپ کا ہر ایک آنے والے سے خندہ پیشانی سے عنا اور لطیف قسم کے مذاق سے آنے والے کو محظوظ کرنا یہ آپ کی ہی خاص خوبی تھی۔ورنہ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ اتنی عمر کو پہنچنے والے عموماً یا تو نہایت خاموش اور سنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ کسی سے بات بھی نہیں کرتے یا سخت قسم کے چڑ چڑا مزاج کہ کسی بچے کی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن آپ کی طبیعت میں اس قسم کے بڑھاپے کی کوئی علامت نہیں تھی۔نہایت زندہ دل اور خوش مزاج اور روشن دماغ تھیں۔بلکہ آپ کے پاس بیٹھنے والی کی طبیعت میں بھی ایک تازگی اور چہرے پر بشاشت اور زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی