سیرت حضرت اماں جان — Page 244
244 تھیں۔خاص طور پر حضرت اماں جان نے ہماری دعوت کی۔اور سارادن بلا کر اپنے پاس ٹھیرایا۔حضرت اماں جان سے ایک دفعہ میں قادیان ملنے گئی۔دیکھا کہ ایک باورچی خانہ میں پراٹھے پکار ہی ہیں۔میں نے کہا۔اماں جان آپ بیٹھی ہیں۔اٹھیں میں پکاتی ہوں تو بہت نرم اور میٹھی آواز میں قہقہ لگا کرفرمایا۔تمہیں روٹی پکانی آتی ہے۔مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے تم صرف کھیلنا اور ہنسناہی جانتی ہو۔اور مجھے اس طرح ہی اچھی لگتی ہو۔یہاں بیٹھو میں روٹی پکاتی ہوں تم کھاؤ“۔میں ہنستے ہوئے وہیں بیٹھی گئی۔حضرت اماں جان نے میرے آگے چوکی پچھوا دی اور اس پر مجھے خود کھانا نکال کر دیا۔اور یہ تو اکثر ہوا کہ جب کبھی میں رات کو باہر سے قادیان پہنچی۔تو صبح سویرے ہی حضرت اماں جان کسی عورت کے ساتھ میرے ابا جان کے گھر تشریف لے آئیں۔اور آتے ہی اپنی مخصوص بلند آواز میں ”السلام علیکم کہا۔( بعض دفعہ تو میں ابھی سو ہی رہی ہوتی تھی ) اور نہایت محبت سے سینہ سے لگالیا۔اور فرمایا۔مجھے رات اطلاع ہوگئی تھی۔کہ میری آمنہ آگئی ہے۔اس لئے میں صبح ہی ملنے کے لئے آگئی۔بعض دفعہ میرے ساتھ چودھری صاحب ( چودھری عبد اللہ خاں) بھی ہوتے ، اور چونکہ ان کی ٹانگ خراب تھی اس لئے میرے اصرار کے باوجودان کو نیچے نہ اترنے دیتیں۔اور خود او پر جا کر ان سے ملتیں۔اور خیریت دریافت فرماتیں۔۱۱۲ از مکر مهد رقیه بیگم بنت محمد اعظم مرحوم آف دہلی دروازہ لاہور ۱۹۲۴ء کا واقعہ ہے کہ ہم اپنے گاؤں موضع تھے غلام نبی سے ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔اور محلہ دارالفضل میں ایک کرایہ کے مکان میں مقیم تھے۔ایک روز میں اور میری والدہ مرحومہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی زیارت کو گئیں۔جب ہم دار امسیح میں داخل ہوئیں تو دیکھا کہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا آٹا گوندھ رہی ہیں۔والدہ مرحومہ کو یہ دیکھ کر بہت ہی تعجب ہوا۔کیونکہ ایسے کام بڑے گھروں میں عام طور پر خادمائیں کرتی ہیں۔اور اس تعجب کی وجہ سے والدہ صاحبہ نے کہا۔کہ بیوی جی آپ خود آٹا گوندھ رہی ہیں ؟ تو حضرت اُم المومنین نے ہنس کر پنجابی زبان میں فرمایا کہ ”کیا میں عورت نہیں ہوں لڑکا ہوں۔اس سے ہم بہت ہی متاثر ہوئے۔کہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی اپنے ہاتھ سے کرنے میں عار نہیں سمجھتیں۔حالانکہ ایسے کاموں کے لئے ان کی کئی خادمائیں وہاں موجود تھیں۔۱۳)